حیات طیبہ

by Other Authors

Page 452 of 492

حیات طیبہ — Page 452

452 آپ کے بال آپ کے سر کے بال نہایت باریک، سیدھے، چکنے، چمکدار اور نرم تھے اور مہندی کے رنگ سے رنگین رہتے تھے۔گھنے اور کثرت سے نہ تھے بلکہ کم کم اور نہایت ملائم تھے۔گردن تک لمبے تھے۔آپ نہ سرمنڈواتے تھے نہ خشخاشی یا اس کے قریب کترواتے تھے بلکہ اتنے لمبے رکھتے تھے جیسے عام طور پر پیٹے رکھے جاتے ہیں۔سر میں تیل بھی ڈالتے تھے۔چنبیلی یا حنا وغیرہ کا۔یہ عادت تھی کہ بال سوکھے نہ رکھتے تھے۔ریش مبارک آپ کی داڑھی اچھی گھند ارتھی۔بال مضبوط ، موٹے اور چمکدارسید ھے اور نرم جنا سے سُرخ رنگے ہوتے تھے۔داڑھی کو لمبا چھوڑ کر حجامت کے وقت فاضل بال آپ کتروا دیتے تھے یعنی بے ترتیب اور ناہموار نہ رکھتے تھے۔بلکہ سیدھی نیچے کو اور برابر رکھتے تھے۔۔ڈاڑھی میں بھی ہمیشہ تیل لگایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک پھنسی گال پر ہونے کی وجہ سے وہاں سے کچھ بال پورے بھی کتر وائے تھے اور وہ تبرک کے طور پر لوگوں کے پاس اب تک موجود ہیں۔ریش مبارک تینوں طرف چہرہ کے تھی۔اور بہت خوبصورت۔نہ اتنی کم کہ چھدری اور نہ صرف ٹھوڑی پر ہو نہ اتنی کہ آنکھوں تک بال پہنچیں۔وسمہ مہندی ابتداء ایام میں آپ وسمہ اور مہندی لگایا کرتے تھے۔پھر دماغی دورے بکثرت ہونے کی وجہ سے سر اور ریش مبارک پر آخر عمر تک مہندی ہی لگاتے رہے۔وسمہ ترک کر دیا تھا البتہ کچھ انگریزی وسمہ بھی استعمال فرمایا۔مگر پھر ترک کر دیا۔آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک وسمہ تیار کر کے پیش کیا تھا وہ لگاتے تھے۔اس سے ریش مبارک میں سیا ہی آگئی تھی۔مگر اس کے علاوہ ہمیشہ برسوں مہندی پر ہی اکتفا کی جوا کثر جمعہ یا بعض اوقات اور دنوں میں بھی آپ نائی سے لگوایا کرتے تھے۔ریش مبارک کی طرح موچھوں کے بال بھی مضبوط اور اچھے موٹے اور چمکدار تھے۔آپ لہبیں کتر واتے تھے مگر نہ اتنی کہ جو وہابیوں کی طرح مونڈھی ہوئی معلوم ہوں نہ اتنی لمبی کہ ہونٹ کے کنارے سے نیچے ہوں۔جسم پر آپ کے بال صرف سامنے کی طرف تھے۔پشت پر نہ تھے اور بعض اوقات سینہ اور پیٹ کے بال آپ مونڈھ دیا کرتے تھے۔یا کتر وادیتے تھے۔پنڈلیوں پر بہت کم بال تھے اور جو تھے وہ نرم اور چھوٹے اس