حیات طیبہ

by Other Authors

Page 445 of 492

حیات طیبہ — Page 445

445 ہیں اور تمام جد و جہد رائیگاں اور فضول ! اللهم آمین۔حضرت اقدس کی وفات پر بعض اخبارات کا ریویو حضرت اقدس کے وصال پر جس طرح بعض لوگوں نے نہایت خلاف انسانیت حرکات کا مظاہرہ کیا تھا اور بہت سے شریف الطبع لوگ احمدیوں سے اظہار ہمدردی اور حضرت اقدس کی آخری زیارت کے لئے احمد یہ بلڈنگس میں آئے تھے۔اسی طرح اخباری دنیا میں بھی جہاں بہت سے لوگوں نے بدگوئی اور زبان درازیوں سے کام لے کر اپنے اندرونہ کو ظاہر کیا۔وہاں سنجیدہ متین اور شریف طبقہ نے آپ کی وفات پر رنج و افسوس کا اظہار کیا۔چنانچہ ان میں سے چند اصحاب کی آراء درج ذیل ہیں۔(۱) مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر اخبار وکیل امرتسر نے لکھا: ”وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی اُنگلیوں سے انقلاب کے تاراً لجھے ہوئے تھے اور جسکی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کیلئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کر خفتگانِ خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دنیا سے اُٹھ گیا۔۔۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو۔ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظرِ عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو ان کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی۔خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے۔ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظ سے ظہور میں آیا۔قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و قیمت آج جبکہ وہ اپنا فرض پورا کر چکا ہے۔ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی