حیات طیبہ — Page 444
444 کیساتھ چیخیں نکل رہی تھیں۔کچھ گذشتہ زمانہ کی حضرت اقدس کی محبتیں آنکھوں کے سامنے آگئی ہوں گی۔کچھ حضور کے اس طرح آنا فانا جدا ہو جانے کی وجہ سے غم کا غلبہ آنکھوں میں آنسو لا رہا ہوگا۔کچھ آئندہ کے حالات آنکھوں کے سامنے آ آ کر عجیب عجیب تصورات ذہنوں کو پریشان کر رہے ہوں گے۔پرانے صحابہ کرام کا بیان ہے کہ اس وقت کی حالت الفاظ میں بیان کرنا مشکل۔نماز کے بعد چھ بجے شام کے قریب جنازہ بہشتی مقبرہ میں لے جا کر دفن کر دیا گیا۔اور اس طرح سے اس پاک اور مقدس وجود کو جس کی کل انبیاء بشارتیں دیتے چلے آئے تھے اور جس نے کل مذہبی دنیا میں زندہ مذہب ، زندہ خدا، زندہ کتاب اور زندہ نبی کو پیش کر کے ایک روحانی انقلاب پیدا کر دیا تھا اور دین اسلام کو نہ صرف دلائل اور براہین کے ساتھ بلکہ زندہ معجزات کو پیش کر کے تمام ادیان عالم پر غالب کر کے دکھا دیا تھا۔ہمیشہ ہمیش کیلئے اپنے مالک اور حتی وقیوم خدا کے سپرد کر کے ایک بار پھر آخری دُعا کر کے اشکبار آنکھوں اور غمگین دلوں کے ساتھ احباب گھروں کو واپس لوٹے۔اس وقت ہر شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی حضرت حسان بن ثابت کے اس شعر کے مطابق کہ : كُنتَ السَّوادَ لِنَاظِرِي فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَن شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتَ أَحَاذِرُ یعنی اے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم انت تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرا کرے۔مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پروا نہیں۔“ کے مطابق زبانِ حال سے یہ کہہ رہا تھا کہ اے خدا کے مسیح! تیرے بغیر اب اس دنیا میں ہماری نظروں کے آگے اندھیرا ہے۔اب جو چاہے مرے ہمیں کسی کی پرواہ نہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ اے خدا کے برگزیدہ مسیح! تجھ پر ہزاروں ہزار درود اور سلام! کہ تو نے اپنی پاک تعلیم اور پاک نمونے سے روحانی انقلاب کا ایک ایسا بیج بو دیا ہے۔کہ جو اب بڑھتا، پھولتا اور پھلتا چلا جائے گا۔اور کوئی نہیں جو اس کی ترقی کے راستے میں روک ڈال سکے۔دنیا کے جلیل القدر بادشاہ تجھ پر درود اور سلام بھیجا اور تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈا کریں گے اور تیرا نام تمام عالم میں عزت اور تکریم کے ساتھ لیا جائے گا۔بلکہ ان لوگوں کا بھی جو تیرے دامن سے وابستہ ہو گئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اب خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق تمام روحانی اور جسمانی برکات تیرے دامن کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہیں۔سومبارک ہیں وہ جو وقت کی نزاکت کو پہچانیں اور سلسلہ کیساتھ اپنی وفاداری کے عہد کو استوار کریں۔اے اللہ ! تو مجھے اور میری اولاد اور اعزہ اور تمام جماعت بلکہ گل عالم کومحض اپنے فضل و کرم سے اس راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرما کہ تیرے فضل و کرم کے بغیر تمام کوششیں بے سود