حیات طیبہ

by Other Authors

Page 443 of 492

حیات طیبہ — Page 443

443 اور اس طرح سے یہ بیعت جماعت کے کامل اتحاد کا باعث ہوئی۔حضرت اقدس کے سارے خاندان نے بھی آپ کی خلافت کو تسلیم کر لیا اور قادیان اور بیرون جات سے آمدہ احباب نے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور صدرانجمن احمدیہ کے سارے ممبروں نے بھی متحدہ فیصلہ کے ماتحت اپنے اس وقت کے سیکرٹری خواجہ کمال الدین صاحب کی معرفت ساری جماعت کی اطلاع کے لئے یہ اعلان کیا کہ اطلاع از جانب صدر انجمن برادران! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته ! حضرت سیدی و مولائی عالیجناب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمد یه موجوده قادیان و اقر با حضرت مسیح موعود به اجازت حضرت اماں جان گل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی۔جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی۔والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب حکیم نورالدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے۔مولانا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب، صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خان صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب، خاکسار خواجہ کمال الدین، حضرت قبلہ حکیم الامت سلمہ کو مندرجہ بالا۔۔۔کل حاضرین نے جن کی تعداد او پر دی گئی ہے بالا تفاق خلیفہ اسیح قبول کیا۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفتہ اسیج و المہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔بیعت خلافت کے بعد جو حضرت اقدس کے باغ میں ایک آم کے درخت کے نیچے ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے تمام حاضر الوقت احمدیوں کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نماز جنازہ ادا کی۔نماز میں گریہ وزاری اور رقت کا یہ عالم تھا کہ تمام مخلصین کی اپنے مولا کے حضور غم وحزن سے ملے جلے جذبات بقیه حاشیه: خدا بخش ( شیخ ) یعقوب علی (ایڈیٹر الحکم )۔نواب محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ۔(صاحبزادہ ) مرزا بشیر احمد (حضرت میر ) ناصر نواب مولوی غلام حسن (سب رجسٹر رجسٹرار پشاور ) ڈاکٹر بشارت احمد (اسسٹنٹ سرجن ) وغیرہ وغیرہ الحکم ۲۸ مئی ۱۹۰۸ ء و بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء