حیات طیبہ — Page 437
437 کھینچیں گے۔کوچ مین نے ایسا ہی کیا۔جب حضور باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ گھوڑے کہاں ہیں ؟ ہم نے عرض کی کہ حضور دوسری قوموں کے لیڈر آتے ہیں تو ان کی قوم کے نوجوان ان کی گاڑیاں کھینچتے ہیں۔آج حضور کی گاڑی کھینچنے کا شرف ہم حاصل کریں گے۔فرمایا۔فوڑا گھوڑے جو تو۔ہم انسان کو حیوان بنانے کے لئے دنیا میں نہیں آئے۔ہم تو حیوان کو انسان بنانے کے لئے آئے ہیں ! اللہ للہ ! کیا پاکیزہ خیالات ہیں خدا کے مسیح کے۔بہت ہیں۔جو اس میں لذت پاتے اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی گاڑی کو حیوان کی بجائے انسان کھینچے لیکن حضور نے جو حیوان کو انسان بنانے کے لئے تشریف لائے تھے۔اس بے جا نمود کو پائے استحقار سے ٹھکرا کر انسان کا صحیح وقار قائم کرنا پسند فرمایا۔اَللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِک وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ میں یہ روایت تحریر کرنا بھول گیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم فرمائے مکرمی قریشی محمد صادق صاحب پر کہ انہوں نے مجھے یہ روایت یاد دلائی اور ان کی وجہ سے مجھے اس کے درج کرنے کی توفیق ملی۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔وصال اکبر ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء اب ہم حضور کے وصال کا واقعہ لکھتے ہیں چونکہ حضور کے سوانح میں سے یہ آخری سانحہ ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی تفصیلات حضور کے فرزندار جمند صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن کی کتاب ”سلسلہ احمدیہ سے نقل کر دی جائیں۔جو علاوہ ایک مستند مؤرخ ہونے کے ایک عینی شاہد بھی ہیں۔آپ فرماتے ہیں: کوئی گیارہ بجے کا وقت ہوگا کہ آپ کو پاخانے کی حاجت محسوس ہوئی اور آپ اُٹھ کر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ کو اکثر اسہال کی تکلیف ہو جایا کرتی تھی۔اب بھی ایک دست آیا اور آپ نے کمزوری محسوس کی اور واپسی پر حضرت والدہ صاحبہ ( یعنی حضرت اماں جان۔ناقل ) کو جگایا۔اور فرمایا کہ مجھے ایک دست آیا ہے جس سے بہت کمزوری ہوگئی ہے۔وہ فورا اُٹھ کر آپ کے پاس بیٹھ گئیں۔اور چونکہ پاؤں کے دبانے سے آرام محسوس ہوا کرتا تھا۔اس لئے آپ ک چار پائی پر بیٹھ کر پاؤں دبانے لگ گئیں۔اتنے میں آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور آپ رفع حاجت کے لئے گئے اور جب اس دفعہ واپس آئے تو اس قدر ضعف تھا کہ آپ چار پائی پر لیٹتے ہوئے اپنا جسم سہار نہیں سکے اور قریباً بے سہارا ہو کر چار پائی پر گر گئے۔اس پر حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر کہا کہ اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟ آپ نے فرمایا۔” یہ وہی ہے۔جو میں کہا کرتا تھا۔یعنی اب وقتِ مقدر آن پہنچا ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا۔مولوی صاحب ( یعنی حضرت