حیات طیبہ — Page 432
432 تقریرا بجے بعد دو پہر کو ختم ہوئی۔اس کے بعد حضرت اقدس معہ مہمانوں کے خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے صحن میں جو چند قدم کے فاصلہ پر تھا کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔اخبار عام کی غلط فہمی کا ازالہ بذریعہ خط ۲۳ رمئی ۱۹۰۸ء حضرت اقدس کی اس تقریر سے بعض لوگوں کو یہ غلط نہی پیدا ہوئی کہ آپ نے اپنے دعوی نبوت کو واپس لے لیا ہے۔چنانچہ ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کے اخبار عام میں یہ خبر شائع ہوئی۔لیکن یہ قطعا غلط نہی پر مبنی تھی۔آپ نے نبوت حقیقیہ تشریعیہ سے انکار کیا تھا نہ کہ نبوت مطلقہ سے۔جب یہ اخبار آپ کے پاس پہنچا۔تو آپ نے اس خبر کی تغلیط اور اصل حقیقت کا اظہار نہایت ضروری سمجھا اور اخبار عام “ کو لکھا: وو پر چہ اخبار عام ۲۳ مئی ۱۹۰۸ء کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی۔کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی کرتا ہوں۔جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا۔جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعتِ اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعوی نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے اور جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے۔اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہی اُمور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں۔اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔مگر میں ان