حیات طیبہ

by Other Authors

Page 395 of 492

حیات طیبہ — Page 395

395 شرح وبسط کے ساتھ لکھنا چاہتے تھے۔اس کتاب میں حضور نے عذاب کی پیشگوئیوں کے فلسفہ پر بھی بحث شروع فرمائی تھی۔مگر افسوس کہ بعض موانع کے پیش آجانے کی وجہ سے اس کتاب کے مکمل ہونے کی نوبت نہیں آئی اور بہتیں صفحات جو پہلے چھپے ہوئے موجود تھے۔ٹائیٹل پیج لگا کر وہی حضور کے وصال کے بعد کتابی صورت میں چھوٹی تختی پر شائع کر دیئے گئے۔سعد اللہ لدھیانوی کی ہلاکت ۳/ جنوری ۱۹۰۷ ء لدھیانہ میں ایک شخص سعد اللہ نامی نومسلم تھے۔جو کسی قدر عربی سے بھی واقف تھے۔وہ حضرت اقدس کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے اور ایسی سوقیانہ اور قابل نفرت زبان استعمال کیا کرتے تھے۔جو نہایت مبتذل لوگ بھی استعمال نہیں کرتے۔انہوں نے ایک کتاب ”شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب“ بھی لکھی تھی۔جس کے دو اشعار درج ذیل ہیں : اخذیمین و قطع وتین است بهر تو بے رونقی و سلسلہ ہائے مزوری اصطلاح شما نام ابتلا است اکنوں نہ آخر بروز حشر و به این دار حناسری ان اشعار میں سعد اللہ نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے لکھا کہ خدا کی طرف سے تیرے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ خدا تجھے پکڑے گا اور تیری رگِ جان کاٹ دے گا۔تب تیری موت کے بعد تیرا سلسلہ جو سراسر جھوٹا ہے۔تباہ و برباد ہو جائے گا۔اور اگر چہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابتلا بھی آیا کرتے ہیں۔مگر آخر تو حشر کے روز بھی اور اس دنیا میں بھی خائب و خاسر رہے گا اور نامراد مرے گا۔“ اس کے بعد سعد اللہ صاحب گندہ دہنی اور بد زبانی میں دن بدن بڑھتے چلے گئے۔آخر انہوں نے ۱۶ ستمبر ۱۸۹۴ء کو حضور کے متعلق ایک نہایت ہی گندی اور ناپاک تحریر شائع کی۔جس میں حضور کو ( نعوذ باللہ ) ابترلکھا۔ان کی اس کارروائی کو حضرت اقدس نے نہایت رنج وقلق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کر کے دُعا کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُن کی نسبت آپ پر انکشاف فرمایا۔اسے آپ نے انوار الاسلام“ کے مشمولہ اشتہاروں میں سے تیسرے اشتہار میں جو تین ہزار روپے انعام کی شرط سے شائع کیا گیا تھا۔ان الفاظ میں ظاہر فرمایا کہ حق سے لڑتا رہ۔آخراے مُردار تو دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔اے عدو اللہ! تُو مجھ سے نہیں۔خدا سے لڑ رہا ہے۔بخدا مجھے اسی وقت ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴۲ء کو تیری نسبت یہ الہام ہوا ہے۔