حیات طیبہ — Page 394
394 موتی۔میں حلفا کہ سکتا ہوں کہ حضرت عیسی کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔اب لوگ جو چاہیں ان کے معجزات پر حاشیے چڑھا ئیں۔مگر حقیقت یہی تھی۔جو شخص حقیقی طور پر مرجاتا ہے اور اس دنیا سے گزر جاتا ہے۔اور ملک الموت اس کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔وہ ہرگز واپس نہیں آتا۔دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ۱۹۰۶ ء کے بعض متفرق واقعات اس سال بہشتی مقبرہ کے بعض ابتدائی انتظامات کئے گئے۔صدر انجمن احمد یہ قادیان کا قیام بھی اس سال ہوا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاں پہلا بچہ نصیر احمد بھی اسی سال پیدا ہوا جو جلد فوت ہو گیا۔وغیرہ وغیرہ۔تصنیفات ۱۹۰۶ء (۱) اشاعت ضمیمہ الوصیت: اس ضمیمہ میں بعض شرائط موصی صاحبان کے متعلق بعض انجمن کے متعلق اور بعض میت کے باہر سے لانے کے متعلق درج ہیں اور آخر میں حضرت اقدس نے احباب کو وصیت کرنے کی پُر درد الفاظ میں تحریک فرمائی ہے۔(۲) تصنیف و اشاعت چشمہ مسیحی: ۹ر مارچ ۱۹۰۶ ء کو حضرت اقدس نے ایک کتاب چشمہ مسیحی شائع فرمائی۔اس کتاب میں حضور نے عیسائیوں کی کتاب دینا بیع الاسلام کا نہایت ہی لطیف رنگ میں جواب دیا ہے اس تصنیف کا باعث یہ ہوا کہ بریلی (یوپی) کے نہایت ہی مشہور و معز نوابی خاندان کے ایک فرد نے حضرت اقدس کی خدمت میں معروضہ پیش کیا کہ عیسائیوں کی کتاب ” ینابیع الاسلام پڑھ کر اسلام کے متعلق میرے دل میں بعض شکوک اور وساوس پیدا ہو گئے۔حضور نے انہیں مخاطب کر کے نہایت ہی ناصحانہ رنگ میں دینا بیع الاسلام‘‘ کا جواب تحریر فرمایا ہے۔(۳) تصنیف تجلیات الهیه : ۱۵ / مارچ ۱۹۰۶ ء کو حضرت اقدس نے تجلیات الہیہ کے نام سے ایک کتاب لکھنا شروع کی تھی اور اس میں آپ خدا تعالیٰ کی اس پیشگوئی پر کہ چمک دکھلا ؤں گا تم کو اس نشان کی پنج باز له حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۷ تا ۳۲۹ کے یہ حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کے بریلی پہنچنے پر ضرور ان سے ملا کرتے تھے اور ان کو سلسلہ احمدیہ کے عقائد کے ساتھ اتفاق تھا، لیکن ابھی سلسلہ میں داخل ہونے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیه راجعون (مولف)