حیات طیبہ

by Other Authors

Page 378 of 492

حیات طیبہ — Page 378

378 قدرت قرار دیا۔اور بتایا کہ اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔بہشتی مقبرہ کا قیام اس کے علاوہ حضور نے خدائی بشارات کے ماتحت ایک مقبرہ کی تجویز بھی کی۔جس کے متعلق حضور کا منشا تھا کہ اس میں ان صادق الارادت لوگوں کی قبریں ہوں۔جنہوں نے اپنی زندگی نیکی ، تقویٰ اور طہارت میں گزاری ہو اور مالی اور جانی قربانیوں میں ایک شاندار مثال قائم کی ہو۔اور اس مقبرہ کا نام حضور نے الہی منشا کے ماتحت بہشتی مقبرہ رکھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: مجھے ایک جگہ دکھائی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تو ایک مقام پر پہنچ کر اس نے مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھائی گئی اور اس کا نام ” بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔“ لے بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے شرائط اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے حضور نے وحی خفی کے ماتحت چند شرطیں بھی لگا دیں جو حسب ذیل ہیں: ا۔پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں دفن ہونا چاہتا ہے۔اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔۲۔دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا۔جو یہ وصیت کرے کہ جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اُس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہو گا۔۳۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو۔اور محرمات سے پر ہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو۔ل الوصیت صفحہ ۱۶