حیات طیبہ — Page 362
362 اور بلا سبب کا بل میں شہید کر دیئے گئے تھے۔جب یہ پیشگوئی پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور اس ظلم کی پاداش میں افغانستان کو خطرناک ہیضہ کی وباء سے دو چار ہونا پڑا جس کے نتیجہ میں وہاں کے ہزاروں باشندےموت کا شکار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے پھر ایک الہام کے ذریعہ حضرت اقدس کو اطلاع دی کہ دو تین بکرے ذبح کئے جائیں گے اے یہ الہام ۱۹۲۴ ء میں آکر پورا ہوا۔جبکہ حکمران شاہی خاندان کے آخری تاجدار میر امان اللہ خاں کا بل پر حکمرانی کر رہے تھے۔ان کے زمانہ میں جماعت احمدیہ کے مبلغ حضرت مولوی نعمت اللہ خاں سے محض مذہبی تعصب کی بناء پر سنگسار کئے گئے اور پھر ان کے چند ہفتے بعد حضرت مولوی عبد العلیم صاحب اور حضرت ملانورعلی صاحب سے اسی جُرم میں شہید کئے گئے۔ان افسوسناک واقعات کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ پسند نہیں کیا کہ ملک افغانستان کی عنان حکومت اس خاندان کے ہاتھ میں رہے جس نے پانچ بے گناہ اور معصوم احمدیوں کو شہید کیا۔چنانچہ اس نے اس خاندان کو مٹانے کے لئے کسی بڑے یا برابر والے بادشاہ کو نہیں بلکہ ایک نہایت ہی معمولی انسان مسلمی حبیب اللہ المعروف بچہ سقہ کو اس کی تباہی اور بربادی کے لئے کھڑا کر دیا۔اور اس نے ایک نہایت ہی مختصر سی جمعیت کے ساتھ جو زیادہ سے زیادہ تین سو افراد پر مشتمل تھی۔امان اللہ خاں جیسے طاقتور اور گولہ بارود سے کیس فوج رکھنے والے بادشاہ کو ایسی خطرناک شکست دی کہ وہ بُری طرح ناکام ہو کر اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔وہ پیشگوئی جو عنوان میں درج کی جاچکی ہے اس طرح پوری ہوئی کہ جب بچہ سقہ نے بغاوت کی تو جرنیل نادر خاں جو بعض وجوہ کی بناء پر ۱۹۲۳ء میں یورپ چلے گئے تھے اور اُن دنوں فرانس میں بیمار تھے۔افغانستان کی اس تباہی اور بربادی کی حالت کو برداشت نہ کر کے مریض ہونے کی حالت میں ہی کابل کے ارادہ سے روانہ ہو گئے۔بمبئی اور پنجاب ہوتے ہوئے پشاور پہنچے لیکن پشاور پہنچتے ہی پھر سخت بیمار پڑ گئے۔چونکہ قدرت کو یہ منظور تھا کہ نادر خاں کے پہنچنے سے پہلے ہی امیر امان اللہ خاں کابل سے نکل جائیں۔اس لئے قبل اس کے کہ نادر خاں صحت یاب ہو کر کابل کی طرف روانہ ہوں۔امیر امان اللہ خاں کابل سے بھاگ گئے۔آخر ۹/ مارچ ۱۹۲۹ء کو وہ افغانستان میں اس قدر بے سروسامانی کی حالت میں داخل ہوئے کہ انہوں نے ملک کو صحیح حالات سے باخبر رکھنے کے لئے ایک پریس جاری کرنا چاہا، مگر ان کی مالی حالت اس قدر کمزور تھی کہ وہ پریس نہ خرید سکے۔اور اس غرض کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے ایک سٹائلو پر لیں جو معمولی چالیس پچاس روپیہ کی چیز ہے خریدا۔ان حالات میں بچہ سقہ لے الہام یکم جنوری ۱۹۰۶ ء مندرجہ تذکرہ سے مولوی نعمت اللہ خاں صاحب ۳۱ / اگست ۱۹۲۴ ء کوسنگسار کئے گئے (الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۴ء) سه مولوی عبد الحلیم صاحب اور قاری ملانور علی صاحب ۱۲ / فروری ۱۹۲۵ء کو شہید کئے گئے۔بحوالہ تذکرہ صفحہ ۵۸۲ حاشیہ