حیات طیبہ — Page 361
361 حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی اپنے مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ نئے سرے سے آبیاری کرنا چاہتا ہے اس لئے دنیا ہر گز ختم نہیں ہوگی ہاں ایک انقلاب عظیم بر پا ہوگا۔جس کے نتیجہ میں دنیا کی تمام بڑی بڑی طاقتیں کچل کر رکھ دی جائیں گی اور پھر دنیا میں اسلام کا دور دورہ ہوگا۔انشاء اللہ تعالی۔اے خدا! تو جلد وہ دن لا۔جبکہ طاغوتی طاقتیں رحمانی طاقتوں کے آگے سرنگوں ہو کر آسمانی بادشاہت کا اقرار کر لیں۔اللَّهُمَّ امين۔زلزلہ کی منظوم پیشگوئی زلزلہ کی پیشگوئی کی عام اشاعت کے لئے حضور نے پیسہ اخبار کے ۳۱ مارچ ۱۹۰۶ء کے پرچہ میں ایک نظم شائع کروائی۔جس کا پہلا شعریہ ہے۔پھر چلے آتے ہیں یارو زلزلہ آنے کے دن زلزلہ کیا اس جہاں سے کوچ کر جانے کے دن الهام " آه نادر شاہ کہاں گیا ۳ رمئی ۱۹۰۵ء زلزلہ عظیمہ کی پیشگوئیوں کا یکجائی طور پر ذکر کرنے کی وجہ سے چونکہ تاریخی طور پر واقعات کا تسلسل قائم نہیں رہ سکا تھا۔اس لئے اب ہم پھر ۱۹۰۵ء کے بقیہ واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔۱۹۰۵ء کے آخر میں حضرت اقدس نے جماعت کے نام ایک وصیت شائع فرمائی۔جس میں اپنی وفات کے قریب ہونے کا ذکرفرمایا تھا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر جب کوئی شخص وصیت کرتا ہے تو اپنے حالات کے مطابق اپنے پس ماندگان کے نام بعض اہم دستاویزات چھوڑ جاتا ہے۔حضرت اقدس چونکہ اس زمانہ کے لئے مامور تھے اس لئے آپ نے علام الغیوب خدا سے اطلاع پا کر ایسی اہم خبریں شائع فرما ئیں۔جن میں آنے والے عظیم الشان انقلابات کا ذکر ہے اور یہ خبریں حضور کو اس لئے ملیں تاہر ملک کے لوگوں کو آپ کی صداقت کی طرف توجہ دلانے کے لئے انہیں کے ملک سے متعلق کوئی پیشگوئی پیش کی جا سکے ذیل میں ہم جس پیشگوئی کا ذکر کر رہے ہیں۔یہ بھی اسی قسم کی انقلاب انگیز پیش خبریوں میں سے ایک ہے۔حضرت اقدس کو الہام ہوتا ہے۔آہ نادرشاہ کہاں گیا ۱۹۰۳ء کے واقعات میں ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی شاتانِ تذبحان“ کے ماتحت حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب اور ان سے پہلے ان کے ایک شاگر د حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب ناحق