حیات طیبہ — Page 354
354 اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولا نا عبد الکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھوم ہے۔مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدرجن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈ امگر دلوں کو گرما دینے والا۔بُردباری کی شان نے انکساری کی کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گو یا متبسم ہیں۔رنگ گورا ہے۔بالوں کو حنا کا رنگ دیتے ہیں۔جسم مضبوط اور مفتی ہے۔سر پر پنجابی وضع کی سفید پگڑی باندھتے ہیں۔پاؤں میں نجراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے۔عمر تقریبا ۶۶ سال کی ہے۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں خوش اعتقاد پایا۔میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے۔جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی اور بے حد عقیدت مند تھے۔مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ایک ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔”ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتے قیام کریں۔(اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے ) میں جس شوق کو لے کر گیا تھا۔ساتھ لایا اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے۔وَحَسَنْ خُلُقَكَ وَلَوْمَعَ الْكُفَّارِ ا زلزلوں سے متعلق بقیہ اشتہارات کا ذکر گو واقعات تو ۱۹۰۵ء کے بیان کئے جارہے ہیں لیکن زلزلوں کی پیشگوئیوں کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے آئندہ سالوں کے اشتہارات کا بھی یہیں ذکر کیا جاتا ہے۔۲۰؍دسمبر ۱۹۰۵ ء کو حضور نے اپنی وصیت شائع فرمائی اور اس میں بھی اس زلزلہ والی پیشگوئی کا ذکر فرمایا اور اپنا تازہ الہام ”پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی کو بھی پیش فرمایا اور بہار کے موسم کی تعیین حضور نے آخر جنوری سے لے کر آخر مئی تک فرمائی۔سے چنانچہ اس کے مطابق ۲۸ فروری ۱۹۰۶ ء کو رات کے ایک بجکر ہیں منٹ پر ایک شدید زلزلہ آیا۔جس کا مرکز شملہ کی پہاڑیاں له بحواله بدر ۲۵ مئی ۱۹۰۵ء۔نوٹ:۔باخبر اصحاب سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا ابوالنصر صاحب نے بیعت بھی کر لی تھی۔۳؎ الوصیت صفحہ ۱۵