حیات طیبہ

by Other Authors

Page 349 of 492

حیات طیبہ — Page 349

349 بجے سے قبل ہی مہمانوں کو کھانا کھلا دیا تھا۔۱۲ بجے کے قریب حضرت اقدس مکان سے اترے۔خلقت بکثرت جمع تھی باوجود اس کے کہ پولیس بڑی تندہی سے انتظام کر رہی تھی۔مگر بعض اوقات وہ بھی بے بس ہو جاتی تھی۔حضرت اقدس کی گاڑی کے لئے بمشکل راستہ بنایا گیا۔جب حضور اسٹیشن پر پہنچے تو وہاں بھی تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔حضور کے لئے سیکنڈ کلاس کا ایک ڈبہ پہلے سے ریزرو کروایا گیا تھا۔حضور اس میں معہ اہلبیت سوار ہو گئے اور جب گاڑی روانہ ہوئی تو السلام علیکم اور خدا حافظ کے نعروں سے پلیٹ فارم گونج اُٹھا۔اسی اسٹیشن کا واقعہ ہے کہ جب گاڑی پلیٹ فارم سے نکل گئی تو کچھ مخالف لوگ اسٹیشن سے ایک طرف بالکل بر ہنہ ہو گئے تھے۔مگر ہم اس موقعہ پر اس کی تفصیل مناسب نہیں سمجھتے مگر یہ ایسی غیر اسلامی بلکہ خلاف انسانیت حرکت تھی کہ جس پر سلسلہ احمدیہ کا اشد ترین مخالف اخبار اہلحدیث بھی ماتم کرنے سے نہ رہ سکا۔اے وزیر آباد کے اسٹیشن پر ایک پادری سے گفتگو جب گاڑی وزیر آباد پہنچی تو پلیٹ فارم پر پہلے سے بھی بڑھ کر ہجوم پایا گیا۔حضرت حافظ مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے پہلے کی طرح پھر اپنے بھائیوں کی لیمونیڈ اور سوڈا سے تواضع کی۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔اس موقعہ پر ڈسکہ کے عیسائی مشنری پادری اسکاٹ صاحب نے بھی حضور سے ملاقات کی۔ان کیساتھ شیخ عبد الحق صاحب نو مسلم بھی تھے۔جو عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے۔پادری صاحب نے آتے ہی حضرت صاحب سے یوں کلام شروع کیا کہ آپ نے ہمارا ایک لڑکا (عبد الحق) لے لیا۔پھر حضور کے ساتھ کچھ مذہبی گفتگو کرنے کی کوشش کی ،مگر حضرت اقدس کے مقابلہ میں بھلا کیسے ٹھہر سکتے تھے۔دو چار مرتبہ سوال و جواب کے بعد ہی رخصت ہو گئے۔وزیر آبا دا سٹیشن پر گاڑی میں بھی بہت آدمیوں نے بیعت کی۔واپسی پر لاہور میں ڈاکٹرسید محمد حسین شاہ صاحب نے حضور اور حضور کے ہمراہیوں کی خدمت میں شام کا کھانا پیش کیا۔رات حضور نے بٹالہ میں گذاری۔صبح چائے اور کھانا جماعت بٹالہ نے پیش کیا۔آخر ۱۲ بجے دوپہر کے قریب حضور معہ اہلبیت وخدام قادیان پہنچ گئے۔فالحمد للہ علی ذلک۔ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت تخمینا ۱۹۰۴ء کور یا کا ملک ایک جزیرہ نما ہے جو جاپان کے عین سامنے واقع ہے ۱۹۰۴ء تک یہ سلطنت چین کے ماتحت لے اخبار ” اہلحدیث امرتسر ۱۱/ نومبر ۱۹۰۴ ء بحوالہ الحکم ۱۷ و ۲۴ دسمبر ۱۹۰۴ء