حیات طیبہ

by Other Authors

Page 307 of 492

حیات طیبہ — Page 307

307 تم نے کیوں اعجاز مسیح کا جواب نہ لکھا تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو بڑی آسانی سے جواب لکھ سکتا ہوں۔اعجاز احمدی کی تصنیف مذکورہ بالا تینوں باتوں کے جواب کے لئے حضرت اقدس نے ایک کتاب ”اعجاز احمدی“ لکھی۔جسے ۸ نومبر ۱۹۰۲ء کو شروع کیا۔اور ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ء تک ختم کر دیا۔گویا اس اہم تصنیف پر صرف پانچ دن صرف ہوئے۔اس کتاب میں حضور مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق لکھتے ہیں : مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔اس لئے ہم اُن کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیان آویں اور تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کریں اور ہم قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہر ایک پیشگوئی کی نسبت جو منہاج نبوت کی رُو سے جھوٹی ثابت ہو۔ایک ایک سورو پید ان کی نذر کریں گے۔ورنہ ایک خاص تمغہ لعنت کا ان کے گلے میں رہے گا اور ہم آمد ورفت کا خرچ بھی دیں گے۔اور کل پیشگوئیوں کی پڑتال کرنی ہوگی تا آئندہ کوئی جھگڑا باقی نہ رہ جائے اور اس شرط سے روپیہ ملے گا اور ثبوت ہمارے ذمہ ہوگا۔“ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ میں مرزا صاحب کے ساتھ مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔اس کا جواب حضرت اقدس نے یہ دیا کہ : پس اگر مولوی ثناء اللہ صاحب ایسے چیلنج کے لئے مستعد ہوں تو صرف تحریری خط کافی نہ ہوگا۔بلکہ اُن کو چاہئے کہ ایک چھپا ہوا اشتہار اس مضمون کا شائع کریں کہ اس شخص کو (اس جگہ میرا نام تبصریح لکھیں ) میں کذاب اور دجال اور کافر سمجھتا ہوں اور جو کچھ یہ شخص مسیح موعود ہونے اور صاحب الہام اور وحی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اس دعویٰ کا میں جھوٹا ہونا یقین رکھتا ہوں۔اور اے خدا! میں تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ اگر یہ میرا عقیدہ صحیح نہیں ہے اور اگر شخص فی الواقع مسیح موعود ہے اور فی الواقع عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو مجھے اس شخص کی موت سے پہلے موت دے اور اگر میں اس عقیدہ میں صادق ہوں اور یہ شخص در حقیقت دجال، بے ایمان، کافر، مرتد ہے اور حضرت مسیح آسمان پر زندہ موجود ہیں۔جو کسی نامعلوم وقت میں پھر آئیں گے۔تو اس شخص کو ہلاک کرے۔تا فتنہ اور تفرقہ دُور ہو۔اور اسلام کو ایک دجال اور مغوی اور مضل سے ضرر نہ پہنچے۔آمین ثم آمین۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ایسے اشتہار مباہلہ پر کم از کم پچاس معزز آدمیوں