حیات طیبہ — Page 299
299 تک طاعون دُور نہیں ہوگی۔اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘اء اوی کے لفظ کی تشریح کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ اوی کے معنی ہیں تباہی اور انتشار سے بچا کر اپنی پناہ میں لے لینا۔گویا انه أوَى الْقَرْيَةَ کا مطلب یہ ہوا کہ قادیان میں سخت تباہ کن جسے عربی زبان میں طاعون جارف یعنی جھاڑ دینے والی کہا جاتا ہے کہ جس سے لوگ جابجا بھاگتے پھرتے اور گتوں کی طرح مرتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا۔اس قسم کی حالت کبھی قادیان پر وار نہیں ہوگی۔اسی مندرجہ بالا الہام کی تشریح میں قادیان کے متعلق آپ نے ایک دوسرا الہام بھی بیان فرمایا کہ لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ یعنی اگر مجھے اس سلسلہ کی عزت ملحوظ نہ ہوتی تو میں قادیان کو بھی ہلاک کر دیتا اس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں اول یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں بھی کوئی واردات شاذ و نادر کے طور پر ہو جائے جو بر بادی بخش نہ ہو اور موجب فرارو انتشار نہ ہو کیونکہ شاذ و نادر معدوم کا حکم رکھتا ہے۔دوسرے یہ کہ یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بدچلن اور مفسد اور سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں۔ان کے شہروں یا دیہات میں ضرور بر بادی بخش طاعون پھوٹ پڑے گی۔یہاں تک کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے۔ہم نے اولی کا لفظ جہاں تک وسیع ہے اس کے مطابق یہ معنی کر دیئے ہیں اور ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی۔مگر اس کے مقابل پر دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں۔ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی۔تمام دنیا میں ایک قادیان ہے جس کے لئے یہ وعدہ ہوا۔فالحمد لله على ذلك۔اسی کتاب میں آگے چل کر حضور فرماتے ہیں:۔”اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدوانا۔میری طرف دوڑیں گے۔یہ جو میں نے ذکر کیا ہے یہ خدا کا کلام ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جو خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے ہماری اس مہلک بیماری کے لئے شفاعت کر تم یقینا سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں باستثنا آنحضرت له دافع البلاء صفحه ۱۲ تا ۱۴ ه دافع البلاء صفحه ۱۲ تا ۱۴ حاشیه