حیات طیبہ — Page 11
11 ایک عجیب واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ آپ چھوٹی عمر میں ہی اپنی ایک ہم عمر سے ( جو بعد میں آپ کے ساتھ بیاہی گئی ) فرمایا کرتے تھے کہ دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔‘1 آپ کی پاکیزہ فطرت اور عمدہ عادات و خصائل ہی کا یہ نتیجہ تھاکہ جس شخص نے بھی آپ کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا وہ آپ کا والہ وشیدا ہو گیا۔ایک احمدی ٹیچر میاں محمد حسین صاحب سکنہ بلوچستان کی روایت ہے کہ : مجھے مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مولوی غلام رسول صاحب قلعہ میہاں سنگھ کے پاس گئے اور اس وقت حضور ابھی بچہ ہی تھے۔اس مجلس میں کچھ باتیں ہورہی تھیں۔باتوں باتوں میں مولوی غلام رسول صاحب نے جو کہ ولی اللہ و صاحب کرامات تھے فرمایا کہ اگر اس زمانہ میں کوئی نبی ہوتا تو یہ لڑ کا نبوت کے قابل ہے۔“ انہوں نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہی۔مولوی برہان الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا۔“ ہے حضرت اقدس کی تعلیم انگریزی حکومت سے قبل پنجاب میں سکھوں کی حکومت تھی اور سکھ حکومت کی تعلیم کی طرف مطلقاً توجہ نہ تھی۔رؤسائے ملک اپنے گھروں پر ہی اساتذہ کو بطور اتالیق رکھ لیتے تھے۔انگریزوں کے ابتدائی زمانہ میں بھی کم و بیش یہی نظام قائم رہا۔اسی طرح پر حضرت اقدس کی تعلیم کے لئے بھی انتظام کیا گیا۔چونکہ حضرت نے اپنی ابتدائی تعلیم کا خود ذ کر فرمایا ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضور ہی کے الفاظ میں اسے دوہرایا جائے۔حضور فرماتے ہیں: ” جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا اور جب میری عمر قریبا دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خوان مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دین دار اور بزرگ آدمی تھے۔وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا اور ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر لے حیات النبی جلد اول نمبر دوم صفحہ ۱۵۸ منقول از روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۱۲ صفحه ۱۰۵،۱۰۴