حیات طیبہ — Page 297
تصنيفات ١٩٠١ء 297 کا ازالہ۔(۱) بقیہ تصنیف تحفہ گولڑوی (۲) تصنیف خطبہ الہامیہ (۳) تصنیف و اشاعت اعجاز مسیح ۱ (۴) ایک غلطی مندرجہ بالا تینوں کتابوں اور اشتہار ایک غلطی کا ازالہ“ کا مفصل ذکر او پر ہو چکا ہے۔جماعت کے چندوں کی تنظیم ۵/ مارچ ۱۹۰۲ء اس وقت تک جماعت کے چندوں کی کوئی خاص تنظیم نہیں تھی۔احباب اپنے اپنے اخلاص کے ماتحت کچھ نہ کچھ چندہ اپنی مرضی کے مطابق حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج دیا کرتے تھے۔یا جب کوئی خاص ضرورت پیش آتی تو حضرت اقدس تحریک فرما دیتے اور احباب علی حسب الاخلاص اس چندہ میں حصہ لے لیتے ،لیکن اب جماعت کی تعداد دن بدن بڑھ رہی تھی اور مہمان بھی بکثرت آنے شروع ہو گئے تھے۔جس کی وجہ سے لنگر خانہ کے اخراجات کافی حد تک بڑھ چکے تھے۔نیز بعض ایسے کام بھی مرکز میں شروع ہو گئے تھے جو ماہوار مستقل خرج چاہتے تھے۔جیسے مدرسہ تعلیم الاسلام اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا اجراء وغیرہ۔اس لئے ضرورت پیش آئی کہ جماعت کے ہر دوست کو یہ تحریک کی جائے کہ وہ کچھ نہ کچھ چندہ خواہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو اپنے اوپر واجب کر لے اور پھر اسے ہر ماہ با قاعدہ ادا کیا کرے۔چنانچہ حضور نے اس غرض کے لئے ۵ / مارچ ۱۹۰۲ ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا۔جس میں لکھا کہ: ’اب چاہئے کہ ہر ایک شخص سوچ سمجھ کر اس قدر ماہواری چندہ کا اقرار کرے جس کو وہ دے سکتا ہے گو ایک پیسہ ماہوار ہو۔مگر خدا کے ساتھ فضول گوئی اور دروغ گوئی کا برتاؤ نہ کرے۔ہر ایک جو مُرید ہے اس کو چاہئے جو اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کر دے خواہ ایک پیسہ اور خواہ ایک دھیلہ۔اور جو شخص کچھ بھی مقر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لئے کچھ مدد دے سکتا ہے۔وہ منافق ہے۔اب اس کے بعد وہ اس سلسلہ میں رہ نہیں سکے گا۔اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتا ہے اور اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کر دیا جائے گا۔اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر لے تفصیل کے لئے دیکھیں دیباچہ اعجاز مسیح مطبوعہ فلسطین شائع کردہ مولانا ابوالعطا صاحب جالندھری سابق مبلغ بلا دعر بیہ