حیات طیبہ — Page 290
290 توسطه۔۔۔۔۔لہذا خاتم النبین کے مفہوم میں فرق نہ آیا، لیکن عیسی کے اترنے سے فرق آئے گا۔اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنی لغت کی رُو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے۔نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کومل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ب فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِن رَّسُول۔اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان معنوں کی رُو سے نبی کا انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ امت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے۔بالضرور اس پر آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا۔اسی کو ہم رسول کہیں گے۔فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں۔جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبی کا لقب عنایت کیا جائے۔وَمَنْ ادَّعَى فَقَدْ كَفَر اب دیکھ لیجئے اس ساری عبارت میں اشارۃ وکنایہ بھی محدثیت کا کہیں ذکر نہیں۔بحالیکہ حضور کا محد ثیت کا دعوئی ہونے کی حالت میں تو اس موقعہ پر محد ثیت کا ذکر ہونا چاہئے تھا نہ کہ نبوت کا لیکن تحریر منقولہ بالا میں نبوت کا تو ذکر موجود ہے محدثیت کا ذکر قطعا نہیں۔اگر حضور کا دعویٰ محدثیت کا ہوتا تو جیسا کہ اوپر ظاہر کیا جا چکا ہے وہ سوال ہی نہیں اُٹھایا جاسکتا تھا جو حضور نے اُٹھایا ہے لیکن اگر بالفرض اُٹھایا گیا تھا تو اس کا سیدھا سادہ یہ مختصر سا جواب کافی تھا کہ آیت خاتم النبیین کے خلاف تو نبی کی آمد ہے نہ کہ محدث کی اور ہمارا دعویٰ محدثیت کا ہے نہ کہ نبوت کا لیکن حضور نے یہ جواب نہیں دیا۔کیونکہ حضور کو نبوت کا دعوی تھا اور آپ اپنے مقام کا نام نبوت رکھتے تھے نہ کہ محدثیت آگے چل کر حضور فرماتے ہیں کہ : اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے مگر نبوت کے معنی اظہار غیب ہے۔‘سے حضور کی اس تحریر میں محدثیت کا فیصلہ اس شان سے ہوا ہے کہ حضور کی طرف محد ثیت کا دعویٰ منسوب لے سے ایک غلطی کا ازالہ