حیات طیبہ — Page 286
286 منکشف کے ماتحت اپنے آپ کو غیر نبی کہتے تھے۔وہ تعریف صحیح نہیں تھی۔حقیقی تعریف وہ ہے جو تفہیم الہیہ سے آپ پر منہ ہوئی۔یعنی نبی وہ ہوتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بکثرت کلام کرے اور وہ کلام اہم امور غیبیہ پرمشتمل ہواور اللہ تعالیٰ اس کا نام نبی رکھے اور اُسے ہدایت خلق کے لئے مامور فرمائے۔نئی شریعت لانا یا نبی سابق کا متبع نہ ہونا نبی کی تعریف میں داخل نہیں۔یہ تعریف چونکہ حضور پر بالکل صادق آتی تھی۔اس لئے حضور نے ظاہر فرمایا کہ میں نبی ورسول ہوں اور حضور کا یہ فرمانا بھی سراسر دیانت پر مبنی تھا۔جب تک انکشاف حقیقت نہ ہوا تھا۔حضور سراسر ظاہر فرماتے رہے کہ میں نبی ورسول نہیں ہوں۔محدث ہوں لیکن جب انکشاف حقیقت ہو گیا تو حضور نے صاف فرما دیا کہ میں نبی و رسول ہوں محض محدث نہیں۔چنانچہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار حضرت اقدس کے زمانہ میں جماعت کے سوادِ اعظم سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہ یعنی غیر مبائعین بھی ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔غیر مبائعین کے پہلے امیر جناب مولانا محمد علی صاحب مرحوم حضرت اقدس کے زمانہ میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے۔انہوں نے نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ حضرت اقدس کو زمرہ انبیاء میں شمار کرتے ہوئے مخالفین کے بالمقابل مضامین لکھے۔چنانچہ ایک تحریری بحث کے دوران میں جو وہ خواجہ غلام الثقلین سے کر رہے تھے لکھتے ہیں: ”چار باتیں خواجہ غلام الثقلین نے آیت إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الحیوۃ الدنیا کے ان معنوں کی تردید میں جو میں نے بیان کئے پیش کی (۱) شیطان نے خدا کی قسم کھائی کہ وہ سب کو گمراہ کرے گا۔شیطان اپنے خیال میں سچا ہو گیا (۲) قوم فرعون اُن (بنی اسرائیل) کے شیر خوار بچوں کو قتل کر دیتی تھی۔(۳) مسیح مصلوب ہوئے (۴) خلفائے اربعہ اور سبطین میں سے منجملہ چھ کس کے پانچ نفس دشمنوں کے ہاتھوں سے ہلاک ہوئے۔بحث تو یہ تھی کہ بچے اور جھوٹے مدعی نبوت میں امتیازی نشان قرآن کریم نے کیا قرار دیا ہے۔اب خواجہ غلام الثقلین خود ہی بتائیں کہ ان پیش کردہ امور میں سے سوائے تیسرے کے جس میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر ہے باقی مدعی نبوت کون کون ہے؟ کیا شیطان مدعی نبوت ہے؟ کیا بنی اسرائیل کے شیر خوار بچے مدعی نبوت تھے ؟ کیا خلفائے اربعہ اور سبطین مدعی نبوت تھے؟ اگر نہیں تو ان باتوں کا امرزیر بحث سے کیا تعلق 1 اس عبارت میں جناب مولوی صاحب موصوف نے خواجہ غلام الثقلین صاحب کے پیش کردہ امور میں ل ریویو آف ریلیجنز جلد پنجم صفحه ۴۳۲