حیات طیبہ

by Other Authors

Page 285 of 492

حیات طیبہ — Page 285

285 اس تعریف کی رُو سے چونکہ آپ نبی نہیں تھے۔کیونکہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے بلکہ شریعت محمدیہ کے پابند تھے اور شریعت محمدیہ میں ترامیم کرنے والے نہیں بلکہ اس کی حفاظت اور نشر و اشاعت کے لئے مامور کئے گئے تھے اور آپ نے روحانی مراتب میں سے جو کچھ پایا وہ براہ راست نہیں پایا بلکہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے پایا تھا اور آپ غیر متبع اور غیر امتی نہیں بلکہ اپنے آقا و مولیٰ اور اپنے نبی مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع وامتی تھے اس لئے آپ کو سابقہ مسلمہ تعریف کی رُو سے نبی ورسول ہونے سے انکار تھا اور آپ ان الہامی الفاظ کی تاویل کر کے اپنے آپ کو محدث قرار دیتے تھے اور آپ کا یہ طریقہ عمل بالکل ٹھیک تھا اور دیانت یہی چاہتی تھی جو آپ نے کیا۔لیکن جب وہ مصلحتِ الہی جو اس طرز عمل کا باعث تھی پوری ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے یہ منکشف فرما دیا کہ نبی کی وہ تعریف نہیں ہے جس سے اتفاق کر کے آپ اپنے نبی ورسول ہونے کا انکار کرتے اور اپنے آپ کو محدث سمجھتے اور کہتے رہے ہیں۔بلکہ نبی کی تعریف یہ ہیکہ ” خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل ہو۔زبر دست پیشگوئیاں ہوں۔مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کی رُو سے نبی کہلاتا ہے۔ا پھر حضور فرماتے ہیں کہ ” میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں۔جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔نیز فرماتے ہیں: جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رُو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہوتو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔“ سے پھر فرماتے ہیں: نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا۔بالخصوص اس حالت میں کہ وہ اُمتی اپنے نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔“ ہے مندرجہ بالا اقتباسات سے عیاں ہے کہ نبوت کی جو تعریف حضرت اقدس پہلے کیا کرتے تھے اور جس لے تقریر حجتہ اللہ صفحہ 4 سے تجلیات البیہ صفحہ ۲۰ سے الوصیت صفحه ۱۲ که ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۳۸