حیات طیبہ — Page 277
277 تصنیفات ١٩٠٠ء ا تحفہ غزنویہ۔حضرت اقدس کی مخالفت میں مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے ایک اشتہار نکالا تھا جس میں ایک تو حضرت اقدس کی بعض پیشگوئیوں پر اعتراضات کئے تھے دوسرے حضور نے ہندوستان کے علماء ومشائخ کے سامنے حق و باطل کی تمیز کے لئے جو یہ تجویز پیش کی تھی کہ تم بیماروں کی شفا کے ذریعے استجابت دعا میں میرے ساتھ مقابلہ کرو۔خود بخود پتہ لگ جائے گا کہ خدا کا مقرب کون ہے۔اس تجویز پر مولوی عبدالحق نے یہ اعتراض کیا تھا کہ سارے ملک کے علماء کس طرح جمع ہو سکتے ہیں اور پھر ان کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔اس اشتہار کے جواب میں حضرت اقدس نے یہ رسالہ تصنیف فرمایا تھا۔یہ رسالہ لکھا تو ۱۹۰۰ ء میں گیا تھا مگر اس کی اشاعت ۳ اکتوبر ۱۹۰۲ ء کو ہوئی۔۲۔رسالہ جہاد۔اس رسالہ میں جہاد کی اصل اور صحیح فلاسفی بیان کی گئی ہے۔جہاد کے صحیح معانی نہ سمجھنے والوں نے جولوٹ مار اور قتل و غارت کا نام جہاد رکھا تھا۔اس کی اصلاح کی گئی ہے۔-۳- لحجتہ النور : یہ کتاب حضرت اقدس نے عرب ممالک کے علماء اور مشائخ کو تبلیغ کرنے کے لئے تصنیف فرمائی تھی۔اس کتاب میں دعاوی مہدویت و مسیحیت نہایت ہی عمدہ طریق سے ثابت کئے گئے ہیں۔اگر چہ یہ کتاب ۱۹۰۰ ء میں لکھی گئی تھی ، لیکن دوسری کتابوں کی طرف توجہ مبذول ہو جانے کی وجہ سے آپ کی وفات کے بعد 1910 ء میں شائع ہوئی۔۴- ابتداء تصنیف تحفہ گولڑویہ۔پیر مہر علی شاہ صاحب نے ایک کتاب شمس الھد ای “ نام لکھی تھی اگر چہ مولانامحمد احسن صاحب امروہی اس کا جواب ”شمس بازغہ کے نام سے لکھ چکے اور وہ شائع ہو چکا تھا۔تاہم حضرت اقدس نے خود بھی اُس کا جواب لکھنا مناسب خیال فرمایا۔چنانچہ آپ نے ۱۹۰۰ ء کے آخر میں یہ کتاب لکھنی شروع فرمائی 1901 ء میں اُسے ختم کیا اور یکم ستمبر ۱۹۰۲ ء کو اس کی اشاعت فرمائی۔اس کتاب میں آپ نے اپنے دعاوی اور پھر ان کے دلائل کو خوب مبرہن فرمایا ہے۔خاص قابل ذکر واقعہ جو اس میں درج ہے وہ ایک بزرگ ولی اللہ حضرت سید امیر کو ٹھے والے پیر صاحب کی شہادت ہے۔جو انہوں نے امام مہدی آخر الزمان کے بارہ میں اپنے مریدوں کے رو برودی۔یہ ایک نہایت ہی کامل بزرگ علاقہ یوسف زئی کے ایک موضع کوٹھہ میں رہتے تھے اور کو ٹھے والے پیر کے نام سے مشہور تھے۔انہوں نے ۱۸۷۷ء مطابق ۲۶۴ ھ میں وفات پائی تھی۔۴ اپنی وفات سے قبل حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے متعلق جو شہادت انہوں نے دی۔اس کا ذکر مولوی حکیم محمد بیچی ل نظم الدر في سلك السير از ملاصفي