حیات طیبہ — Page 269
269 اور اُس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔“ اعجاز مسیح کی اشاعت ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء اس اشتہار کے مطابق حضرت اقدس نے مدت معینہ کے اندر ۲۰ فروری ۱۹۹۱ء کو اپنی مشہور و معروف کتاب اعجاز اسیح شائع فرما دی۔جس میں سورۃ فاتحہ کی ایسی پر معارف تفسیر بیان کی کہ بڑے بڑے عالم اسے پڑھ کر وجد میں آتے اور دنگ رہ جاتے ہیں۔اس کتاب کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ یقیناً یہ کتاب تائید الہی سے لکھی گئی ہے۔عجیب بات ہے کہ اس کتاب کے ٹائٹل پیج پر آپ نے تحدی کے ساتھ یہ لکھ دیا تھا کہ: فَإِنَّهُ كِتابُ لَيْسَ لَهُ جَوَاب فَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تندمَ وَتَذَمَّر یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ کوئی شخص اس کا جواب لکھنے پر قادر نہیں ہو سکے گا اور جس شخص نے بھی اس کا جواب لکھنے پر کمر باندھی اور تیاری شروع کی وہ سخت نادم اور ذلیل ہوگا۔“ اور اس کتاب کے صفحہ ۶۶، ۶۷ پر آپ کی ایک دُعا درج ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دُعا کی کہ اس کتاب (اعجاز امسیح) کو علماء کے لئے معجزہ بنا دے۔اور یہ کہ کوئی ادیب اس کی مثل نہ لا سکے اور انہیں اس کے انشاء کی توفیق ہی نہ ملے۔اور میری دُعا اُسی رات خدا تعالیٰ کی جناب میں قبول ہوگئی اور میں نے ایک مبشر خواب دیکھی اور میرے رب نے مجھے یہ بشارت دی اور فرمایا کہ مَنَعَهُ مَانِعُ مِنَ السَّمَا یعنی جو مقابل پر آئے گا۔اُس کو آسمانی روکوں کے ساتھ مقابلہ سے روک دیا جائے گا۔تو میں سمجھ گیا کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہیکہ دشمن لوگ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے اور نہ ہی اس جیسی بلاغت اور فصاحت یا حقائق و معارف کا نمونہ دکھا سکیں گے اور یہ بشارت مجھے رمضان شریف کے آخری عشرے میں ملی تھی۔اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد پیر مہرعلی شاہ صاحب نے تو کتاب کے چند فقرات کو لے کر یہ اعتراض کیا کہ یہ مقامات حریری سے چرا لئے گئے ہے۔لیکن خود سرے سے کوئی کتاب ہی شائع نہ کر سکے البتہ ان کے ایک مرید مولوی محمد حسن صاحب سکنہ بھیں ضلع جہلم نے اعجاز اسیح کا جواب لکھنا شروع کیا۔مگر وہ اعجاز اسیح “ کے ٹائٹل پیج کی پیشگوئی کے مطابق قبل اس کے کہ تفسیر کے جواب میں چند صفحات ہی مکمل کر سکیں۔دنیا سے رخصت لے اعجاز اسیح صفحه ۶۷،۶۶ ترجمه از عربی عبارت