حیات طیبہ — Page 232
232 رشتہ ناطہ کے متعلق جماعت کو ہدایات۔۷ /جون ۱۸۹۸ء اب تک غیر از جماعت لوگوں کے ساتھ رشتہ ناطہ کے بارہ میں کوئی پابندی نہیں تھی۔لیکن جب حضرت اقدس نے دیکھا کہ ہمارے بچوں کا گزارہ مناسب مذہبی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے غیروں میں نہیں ہوسکتا تو جماعت کے نام ایک اہم ہدایت جاری فرمائی۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضور ہی کے مبارک الفاظ میں وہ درج کر دی جائے۔حضور فرماتے ہیں: چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی بزرگ عنایات سے ہماری جماعت کی تعداد میں بہت ترقی ہورہی ہے اور اب ہزاروں تک اس کی نوبت پہنچ گئی اور عنقریب بفضلہ تعالیٰ لاکھوں تک پہنچنے والی ہے اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اُن کے باہمی اتحاد کے بڑھانے کے لیے اور نیز انکو اہل واقارب کے بداثر اور بدنتائج سے بچانے کے لئے لڑکیوں اور لڑکوں کے نکاحوں کے بارہ میں کوئی احسن انتظام کیا جاوے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جولوگ مخالف مولویوں کے زیر سایہ ہو کر تعصب اور عناد اور بخل اور عداوت کے پورے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان سے ہماری جماعت کے نئے رشتے غیر ممکن ہو گئے ہیں۔جب تک کہ وہ تو بہ کر کے اس جماعت میں داخل نہ ہوں اور اب یہ جماعت کسی بات میں ان کی محتاج نہیں۔مال میں۔دولت میں۔علم میں۔فضیلت میں۔خاندان میں۔پرہیز گاری میں۔خدا ترسی میں سبقت رکھنے والے اس جماعت میں بکثرت موجود ہیں اور ہر ایک اسلامی قوم کے لوگ اس جماعت میں پائے جاتے ہیں۔تو پھر اس صورت میں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں سے ہماری جماعت نئے تعلق پیدا کرے جو ہمیں کافر کہتے اور ہمارا نام دجال رکھتے یا خود تو نہیں مگر ایسے لوگوں کے ثنا خواں اور تابع ہیں۔یاد رہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کو چھوڑ نہیں سکتا وہ ہماری جماعت میں داخل ہونے کے لائق نہیں۔جب تک پاکی اور سچائی کے لئے ایک بھائی بھائی کو نہیں چھوڑے گا اور ایک باپ بیٹے سے علیحدہ نہیں ہوگا۔تب تک وہ ہم میں سے نہیں۔سو تمام جماعت توجہ سے سُن لے کہ راستباز کے لئے ان شرائط پر پابند ہونا ضروری ہے۔اے مقدمه انکم ٹیکس ۱۸۹۸ء حضرت اقدس کے معاندین و مخالفین نے یہ دیکھ کر کرقتل عمد کا جو مقدمہ ان کے خلاف قائم کیا گیا تھا اس سے ے منقول از اشتہارے جون ۱۸۹۸ء