حیات طیبہ

by Other Authors

Page 213 of 492

حیات طیبہ — Page 213

213 پہنچے تو انہوں نے حضرت اقدس کے خلاف بالکل گندہ، خلاف تہذیب و انسانیت امور پر مشتمل ایک خط پر چہ ” ناظم الہند لاہور کے ایڈیٹر کے نام لکھا جو پر چہ مذکور کی اشاعت ۱۵ رمئی ۹۷ء میں شائع کیا گیا۔اخبارات نے ایک غیر ملکی مسلمان قونصل سمجھ کر ان کے خط کو بہت اہمیت دی۔اس زمانہ میں راولپنڈی سے ایک اخبار بنام چودھویں صدی“ نکلا کرتا تھا۔اس نے اپنے ایک پرچہ میں لکھا کہ جب یہ خط یہاں کے ایک بزرگ نے پڑھا تو بے ساختہ اس کے منہ سے یہ شعر نکل گیا کہ ے چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنه پاکاں برد اخبار ” چودہویں صدی کا یہ پرچہ جب قادیان میں حضرت اقدس کے حضور پڑھا گیا۔تو حضور کی روح میں اس بزرگ کی نسبت ایک حرکت پیدا ہوئی۔آپ نے ہر چند کوشش کی کہ یہ بات آپ کی روح سے نکل جائے۔مگر وہ نکل نہ سکی۔اس پر آپ نے اس بزرگ کی نسبت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ یا الہی ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تیری طرف سے تیرا بھیجا گیا اور مسیح موعود ہوں تو تو اس شخص کے پردے پھاڑ دے جو بزرگ کے نام سے اس اخبار میں لکھا گیا ہے لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیان میں آکر مجمع عام میں تو بہ کرے۔تو اسے معاف فرما کہ تو رحیم وکریم ہے اور اس معافی کے لئے آپ نے یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے لے کر یکم جولائی ۱۸۹۸ء تک ایک سال کی مدت مقرر فرما دی اور اس ساری کارروائی کو ۲۵/ جون ۱۸۹۷ء کے اشتہار میں شائع کر دیا۔حضرت اقدس کا یہ اشتہار جب اس بزرگ کے پاس پہنچا تو اُسے سخت پریشانی لاحق ہوگئی اتنے میں کچھ ایسے آثار بھی پیدا ہو گئے۔جن کی وجہ سے اس کی سخت پردہ دری کا احتمال تھا ان ساری باتوں کو بھانپ کر اس نے معافی کا خط لکھا اور نیز یہ کہ بعض حالات کیوجہ سے سر دست حاضری سے معاف کئے جانے کا مستحق ہوں۔شاید جولائی ۱۸۹۸ء سے پہلے ہی حاضر ہو جاؤں۔حضرت اقدس نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔میں اس سے راضی ہوں اور معافی دیتا ہوں۔“اے والی افغانستان کو تبلیغ اسی سال افغانستان کے والی امیر عبدالرحمان خاں کو بھی آپ نے اپنے ایک مخلص مرید کی معرفت جن کا نام بھی عبدالرحمان ہی تھا۔ایک تبلیغی خط روانہ کیا۔چونکہ اس ملک میں مولویوں کا زور تھا۔اس لئے وہ خط غالبًا له از اشتہار ۲۰ نومبر ۱۸۹۷ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۷۹،۱۷۸