حیات طیبہ — Page 211
211 کرتا تھا۔مجھ سے اس نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔میں نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کا ذکر سنایا تو خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ بھاگا ہوا وہاں آیا۔جہاں حضرت اقدس وضو کر رہے تھے ( میں اس نظارے کو اب بھی گو یاد یکھ رہا ہوں۔عرفانی ) اس نے ہاتھ جوڑ کر آریوں کے طریق پر حضرت اقدس کو سلام کیا مگر حضرت نے یونہی سر اٹھا کر سرسری طور پر دیکھا اور وضوکرنے میں مصروف رہے۔اس نے سمجھا شاید سنا نہیں۔اس نے پھر (سلام ) کہا۔حضرت بدستور استغراق میں رہے۔وہ کچھ دیر ٹھہر کر چلا گیا۔کسی نے کہا کہ لیکھر ام سلام کرتا تھا۔فرمایا۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی توہین کی ہے۔میرے ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس کا سلام لوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر تو حملے کرتا ہے اور مجھ کو سلام کرنے آیا ہے۔“ اللہ اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں آپ کس قدر غیرت رکھتے تھے۔دوسری قوم کا ایک معزز لیڈر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتا تھا اس کا سلام تک قبول کرنا پسند نہ کیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ و الِ مُحَمَّدٍ وَ خُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمْ ولادت حضرت صاحبزادی مبارکه بیگم صاحبه ۲ مارچ ۱۸۹۷ ء مطابق ۲۷ / رمضان المبارک ۱۴ سیاه ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو بشارت الہی کے ماتحت آپ کے ہاں حضرت صاحبزادی مبارکہ بیگم صاحبہ کی ولادت ہوئی۔اُن کی ولادت سے قبل حضرت اقدس کو آپ کے متعلق الہام ہوا۔تنَشَأُ فِي الْحِلْيَةِ۔یعنی ” زیور میں نشو و نما پائے گی جس کا مطلب یہ تھا کہ اُن پر نہ تو تنگی کا زمانہ آئے گا اور نہ ہی آپ خوردسالی میں فوت ہوں گی۔چنانچہ بعد کے واقعات نے بتایا کہ حضرت اقدس کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔اُن کی شادی حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے ساتھ ہوئی۔جو بہت بڑی جاگیر کے مالک اور ریاست مالیر کوٹلہ کے شاہی خاندان کے ساتھ تعلق رکھنے والے معزز رئیس تھے۔حسین کا می سفیر ٹرکی کی قادیان میں آمد ۱۰ ریا ا ارمئی ۱۸۹۷ء اوائل مئی ۷ء میں سلطنت ترکی کے قونصل حسین بک کامی متعینہ کراچی لاہور آئے اور انہوں نے ایک حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۱۷