حیات طیبہ — Page 210
210 ہاتھ میں پستول اور ایک ہاتھ میں لاٹین ( کیونکہ کوٹھری میں اندھیرا تھا ) لیکر اندر گیا اور اس نے لالٹین سے تمام کوٹھڑی کو اچھی طرح دیکھا اور کہا کہ یہاں کوئی نہیں لیکھرام کی والدہ نے اصرار کیا کہ قاتل اسی کوٹھڑی میں ہے اس پر سپر نٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ اگر مکھی بن کر نکل گیا ہوتو ممکن ہے ور نہ انسان کے نکلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے یہ واقعہ پنڈت گوگل چند صاحب نے حلفیہ بیان کیا تھا اور میں بھی اس کو حلفیہ بیان کرتا ہوں‘ الراقم محب الرحمن ۶۰-۲-۱۲ گواہ شد ڈاکٹر عبید اللہ خان بٹالوی گواه شد ماسٹر محمد ابراهیم صدر حلقه دیلی دروازه نوٹ : اس واقعہ کے متعلق جو عام بیانات منظر عام پر آچکے ہیں ان کے متعلق مولوی صاحب نے بیان کیا کہ پنڈت گوگل چند کہا کرتے تھے کہ وہ بیانات آریہ لوگوں نے اپنے وکلاء کی مدد سے تیار کئے تھے ورنہ حقیقت وہی ہے جو میں نے بیان کی۔واللہ اعلم بالصواب۔خاکسار عبدالقادر ۶۰-۲-۱۲ اس قتل کا ایک سیاسی فائدہ اس قتل کا ایک سیاسی فائدہ مسلمانوں کو یہ پہنچا کہ اس زمانہ میں دودھ، دہی اور مٹھائی کی دوکانیں صرف ہندوؤں کی ہوتی تھیں۔اس واقعہ کی وجہ سے ہندو دوکانداروں نے بعض مسلمان بچوں کو مٹھائی میں زہر ملا کر دیدیا۔جس سے مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے دودھ۔دہی اور مٹھائی کی دکانیں کھولنا شروع کر دیں۔حضرت اقدس کی دینی غیرت کا ایک واقعہ پنڈت لیکھرام کا ذکر ہورہا ہے۔اس موقعہ پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت لیکھر ام سے تعلق رکھنے والا ایک واقعہ بھی درج کر دیا جائے۔جس سے حضرت اقدس کی دینی غیرت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں: ’ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود فیروز پور سے قادیان کو آرہے تھے۔۔۔میں رائے ونڈ تک ساتھ تھا۔وہاں آپ نے از راہ کرم فرمایا کہ تم ملازم تو ہو ہی نہیں چلو لا ہور تک چلو۔عصر کی نماز کا وقت تھا۔آپ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوئے اس وقت وہاں ایک چبوترہ بنا ہوا کرتا تھا۔مگر آج کل وہاں ایک پلیٹ فارم ہے۔میں پلیٹ فارم کی طرف گیا تو پنڈت لیکھرام آریہ مسافر جوان ایام میں پنڈت دیانند صاحب کی لائف لکھنے کے کام میں مصروف تھا۔جالندھر جانے کو تھا کیونکہ وہ وہاں ہی غالبا کام