حیات طیبہ — Page 209
209 انہیں مخالفانہ تحریر کے لیے تکلیف اُٹھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ہم خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر وہ جلسہ عام میں میرے روبرو یہ قسم کھالیں کہ یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھی اور نہ سچی نکلی۔اور اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور فی الواقعہ پوری ہوگئی ہے تو اے قادر مطلق ! ایک سال کے اندر میرے پر کوئی عذاب شدید نازل کر پھر اگر مولوی صاحب موصوف اس عذاب شدید سے ایک سال تک بچ گئے۔تو ہم اپنے تئیں جھوٹ سمجھ لیں گے اور مولوی صاحب کے ہاتھ پر تو بہ کریں گے اور جس قدر کتا ہیں ہمارے پاس اس بارہ میں ہوں گی جلا دیں گے اور اگر وہ اب بھی گریز کریں تو اہل اسلام خود سمجھ لیں کہ انکی کیا حالت ہے اور کہاں تک ان کی نوبت پہنچ گئی ہے۔اس اشتہار کی اشاعت کے بعد مولوی صاحب موصوف نے بھی چند نا معقول اور لا یعنی عذرات پیش کر کے خاموشی اختیار کر لی۔لیکھرام کے قتل کے سلسلہ میں ایک شہادت آج بروز جمعه مورخه ۶۰-۲- ۱۲ کو بعد نماز عصر مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور میں محتر می مولوی محب الرحمن صاحب ابن حضرت منشی میاں حبیب الرحمن کپور تھلوی نے چند دوستوں کے روبرو مندرجہ ذیل بیان اپنے قلم سے لکھ کر عنایت فرمایا۔”خاکسار محب الرحمن عرض کرتا ہے کہ ۱۹۰۹ء کے قریب خاکسار کو ایک صاحب پنڈت گوگل چند ہیڈ ماسٹر نڈالوں ضلع ہوشیار پور نے بتایا کہ جس وقت پنڈت لیکھرام قتل ہوئے اس سے کچھ عرصہ پیشتر وہ ان سے سنسکرت پڑھا کرتے تھے انہی دنوں میں ایک مسلمان ان کے پاس آیا۔جس نے سنسکرت پڑھنے کا شوق ظاہر کیا اور چند دن پڑھتا رہا۔جس دن واقعہ قتل ہوا اُس دن وہ وہاں موجود تھے اور واقعہ قتل کے وقت جس وقت چھری اسے لگی اس نے ”ماں“ کہہ کر آواز نکالی۔اس کی والدہ دوڑتی ہوئی آئی تو دیکھا کہ قاتل بڑے اطمینان سے آہستہ آہستہ لیکھرام کے پاس سے چل کر سامنے ایک کوٹھڑی میں چلا گیا۔لیکھرام کی والدہ نے بڑھ کر کوٹھڑی کا دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی اور پولیس کو بتایا کہ قاتل اس کو ٹھری میں ہے۔اس وقت انگریز سپر نٹنڈنٹ پولیس موجود تھا۔کوئی سپاہی کوٹھڑی میں جانے کے لئے تیار نہ ہوا تو سپر نٹنڈنٹ پولیس خود ایک له از اشتہا را ارا پریل ۱۸۹۷ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۸۱ حاشیه