حیات طیبہ — Page 208
کرا دیں۔“ 208 حضرت اقدس نے جوابا لکھا کہ یاد رہے کہ گنگا بشن صاحب کو دس ہزار روپیہ جمع کرانا کچھ بھی مشکل نہیں کیونکہ اگر آریہ صاحبوں کی بھی درحقیقت یہی رائے ہے کہ لیکھرام کا قاتل در حقیقت یہی راقم ہے اور وہ یقین دل سے جانتے ہیں کہ الہام اور مکالمہ الہی سب جھوٹی باتیں ہیں بلکہ اس راقم کی سازش سے وقوعہ قتل ظہور میں آیا ہے تو وہ بشوق دل لالہ گنگا بشن کو مدددیں گے اور دس ہزار کیا وہ پچاس ہزار تک جمع کرا سکتے ہیں اور وہ یہ بھی انتظام کر سکتے ہیں کہ جو دس ہزار روپیہ مجھ سے لیا جائے گا وہ آریہ سماج کے نیک کاموں میں خرچ ہو گا۔تو اب آریہ صاحبوں کا اس بات میں کیا حرج ہے کہ بطور ضمانت دس ہزار روپیہ جمع کرا دیں بلکہ یہ تو ایک مفت کی تجارت ہے جس میں کسی قسم کا دھڑ کا نہیں۔اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ گورنمنٹ کو معلوم رہے گا کہ آریہ قوم کی رضامندی سے یہ معاملہ وقوع میں آیا ہے اور نیز اس اعلی نشان سے روز کے جھگڑے طے ہو جائیں گے۔اور اگر یہ حالت ہے کہ آریہ قوم کے معزز لالہ گنگا بشن کو اس رائے میں کہ یہ عاجز لیکھرام کا قاتل ہے۔جھوٹا سمجھتے ہیں تو پھر مجھے کونسی ضرورت ہے کہ ایسے شخص کے مقابلہ کا فکر کروں جس کو پہلے سے اس کی قوم ہی جھوٹا تسلیم کر چکی ہے۔“ آخر میں حضور نے لکھا کہ اگر لالہ گنگا بشن کو ہماری یہ شرط منظور نہیں تو آئندہ ان کو ہرگز جواب نہیں دیا جائے گا اور ان کے مقابل پر یہ ہمارا آخری اشتہار ہے۔حضرت اقدس کے اس اشتہار کے بعد لالہ گنگا بشن صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کو دعوت قسم قارئین کرام یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس موقعہ پر بھی حضرت اقدس کی مخالفت کرنے سے نہیں چوکے۔انہوں نے تحریراً اور تقریر یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اس پر حضرت اقدس نے لکھا کہ: مولوی محمد حسین صاحب اگر سچے دل سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی لیکھر ام والی جھوٹی نکلی تو له از اشتہار ۱/۲۷ پریل ۱۸۹۷ تبلیغ رسالت جلد ششم که از اشتہار ۱/۲۷ پریل ۱۸۹۷ ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۰۱، ۱۰۲