حیات طیبہ

by Other Authors

Page 201 of 492

حیات طیبہ — Page 201

201 ہوں۔ششم: اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کرلیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں۔۔۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہو اور جیسا کہ مسیح کہ ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے اور یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے۔یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر طرف سے اسلام میں داخلہ شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جاوے اور دنیا اور رنگ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کرلوں گا۔یہ سات برس کچھ زیادہ نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں نہیں۔پس جبکہ میں سچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں۔تو اب تم خدا سے ڈرو۔اگر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤ نگا۔ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کر سکتا “اے حضرت اقدس نے غیر احمدی مسلمانوں کو یہ دعوت اس لئے دی کہ اشاعت اسلام کا جو کام حضور کر رہے تھے۔مولوی صاحبان اس میں روڑے اٹکاتے تھے اور شور مچانا شروع کر دیتے تھے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔اگر غیروں کے مقابلہ میں سارے مسلمان متحد ہو کر ایک محاذ قائم کر لیتے تو یقیناً چند سالوں کے اندر ہی ہندوستان کا نقشہ بدل جاتا ،مگر افسوس کہ مسلمانوں کی باہمی تکفیر بازی نے دین کو سخت نقصان پہنچایا۔حضرت اقدس نے چار پانچ سال کے بعد 190 ء میں پھر اس تجویز کو پیش کیا اور صلح کی مدت بھی گھٹا کر تین سال کر دی۔مگر افسوس کہ مولوی صاحبان نے اس تجویز کو بھی ٹھکرا دیا۔سے پنڈت لیکھرام کی موت کے متعلق پیشگوئی پنڈت لیکھرام ایک بہت ہی تیز زبان اور شوخ طبیعت آریہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب ۱۸۸۵ء میں غیر مسلموں کو نشان نمائی کی دعوت دی تو یہ بھی مقابلہ کے لئے قادیان میں آئے۔مگر چند روز مخالفوں کے پاس رہ کر واپس چلے گئے۔یہ حضرت اقدس سے بار بار نشان طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میری له ضمیمه انجام انتقم صفحه ۲۰ تا ۳۵ ے دیکھئے اشتہار الصلح خیر مورخہ ۱۵ مارچ ۱۹۰۱ ، مندرجه تبلیغ رسالت جلد دهم صفحه ۶