حیات طیبہ — Page 195
195 نام لینے والا اس کا باقی نہیں رہتا اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہے تو جلد باطل ہو جائیگا، لیکن اگر خدا کا ہے تو ایسا نہ ہو کہ تم مقابلہ کر کے مجرم ٹھہر و۔اللہ جلشانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔اِنْ يَّكَ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَّكَ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّاب سے یعنی اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا اور اگر یہ سچا ہے تو تم اس کی ان بعض پیشگوئیوں سے بچ نہیں سکتے جو تمہاری نسبت وہ وعدہ کرے۔خدا ایسے شخص کو فتح اور کامیابی کی راہ نہیں دکھا تا جو فضول گو اور کذاب ہو۔66 اس کے بعد حضرات علماء اور سجادہ نشینوں کو مخاطب کر کے آپ نے لکھا کہ : ’اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینو!! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اگر چہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فئة قلیۃ ہے اور شاید اس وقت تک چار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی ہے۔تاہم یقینا سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہو گا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچا دے۔اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گرد احاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز تر قیات دیگا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہتا۔اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں تاجور استی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جائے اور جواند ھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے۔پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بددعا کروں۔عبدالحق عز نوی ثم امرتسری نے مجھ سے چاہا۔مگر میں مدت تک اعراض کرتا رہا۔آخر اس کے نہایت اصرار سے مباہلہ ہوا۔مگر میں نے اس کے حق میں کوئی بددعا نہیں کی لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا۔مجھے کافر ٹھہرایا گیا۔مجھے دجال کہا گیا۔میرا نام شیطان رکھا گیا۔مجھے کذاب اور مفتری سمجھا گیا۔میں ان کے اشتہاروں میں لعنت کے ساتھ یاد کیا گیا۔میں ان کی مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔میری تکفیر پر آپ لوگوں نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔له سورة مؤمن: ۲۹ سے آج خدا تعالی کے فضل و کرم سے اس جماع کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے پس کیا یہ ان عظیم الشان پیشگوئیوں میں سے نہیں جس کا انکار کسی مذہب اور فرقے والے سے ممکن نہیں۔(مؤلف)