حیات طیبہ — Page 190
190 میں ”الخطاب الجلیل اور انگریزی میں ٹیچنگز آف اسلام“ ہے۔ذیل میں اس مضمون کے متعلق بعض اہل الرائے اصحاب کے خیالات درج کئے جاتے ہیں۔ا۔تھیا سوفیکل بک نوٹس میں یہ الفاظ درج ہیں کہ یہ کتاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کی بہترین اور سب سے زیادہ دلکش تصویر ہے۔“ ۲۔انڈین ریو یولکھتا ہے۔یہ کتاب بہت دلچسپ اور مسرت بخش ہے۔اس کے خیالات روشن، جامع اور پر از حکمت ہیں۔پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے۔یہ کتاب یقیناً اس قابل ہے کہ ہر اس شخص کے ہاتھ میں ہو جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے۔“ ۳۔برسٹل ٹائمز اینڈ مررلکھتا ہے : ”یقینا وہ شخص جو اس رنگ میں یورپ و امریکہ کو مخاطب کرتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہوسکتا۔“ ۴۔ایک غیر احمدی اخبار نویس نے حضرت اقدس کی اس تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ان لیکچروں میں سب سے عمدہ لیکچر جو جلسہ کی روح رواں تھا۔مرزا غلام احمد قادیانی کا لیکچر تھا جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے پڑھا۔یہ لیکچر دودن میں تمام ہوا۔۲۷ دسمبر قریبا چار گھنٹے اور ٫۲۹ر دسمبر کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا، کل چھ گھنٹے میں یہ لیکچر تمام ہوا جو حجم میں سو صفحے کلاں تک ہوگا۔غرضیکہ مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ تمام سامعین لھو ہو گئے۔فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لئے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی۔عمر بھر ہمارے کانوں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سنا۔دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے سچ تو یہ ہے کہ وہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہیں تھے۔عموما سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو انہوں نے بہت ہی کم پیش کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے بھی تھے جو بولتے تو بہت تھے مگر اس میں جاندار بات کوئی نہیں تھی۔بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو ان سوالات کا علیحدہ علیحدہ اور مفصل و مکمل جواب تھا اور جس کو حاضرین جلسہ نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سنا اور بڑا ہی بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں اور نہ اُن سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم الفطرت اور صحیح کانشنس اس کو روار کھ سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کل