حیات طیبہ — Page 186
186 ظاہر ہے کہ اسلام اور عیسائیت کی سچائی کو پرکھنے کے لئے یہ طریق فیصلہ بہت ہی منصفانہ فیصلہ تھا مگر پادری صاحبان میں سے کسی نے بھی اسے قبول نہیں کیا۔روئداد جلسہ مذاہب عالم۔دسمبر ۱۸۹۶ء حضرت اقدس کا ایک کام اسلام کو جملہ مذاہب عالم پر غالب کرنا تھا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کئی مواقع بہم پہنچائے۔لیکن جس موقعہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں غالبا سب سے زیادہ اہم موقعہ یہی تھا۔آپ کی مدت سے یہ خواہش تھی کہ ایک ایسا جلسہ مقرر کیا جائے جس میں جملہ مذاہب عالم کے مذہبی لیڈروں کو اپنی اپنی الہامی کتابوں کے کمالات ثابت کرنے کی دعوت دی جائے چنانچہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک زریں موقعہ فراہم کر دیا۔۱۸۹۶ء میں لاہور کے بعض ہند و معززین نے ایک مذہبی کا نفرنس منعقد کرنے کی تجویز کی۔جس میں تقریروں کے لئے حسب ذیل پانچ سوالوں کے جوابات تجویز کئے گئے۔ا۔انسان کی جسمانی ، اخلاقی اور روحانی حالتیں۔۲۔انسان کی دنیوی زندگی کے بعد کی حالت۔۳۔دنیا میں انسان کی ہستی کی غرض کیا ہے اور وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ ۴ گرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے؟ ۵- علم یعنی گیان و معرفت کے ذرائع کیا ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہی یہ کانفرنس مقرر کروائی تھی چنانچہ جب اس جلسہ کے مجوز سوامی شوگن چندر آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فور امضمون تیار کرنے پر آمادگی کا اظہار فرمایا بلکہ اس کا پہلا اشتہار قادیان میں چھاپ کر شائع کرایا۔اور اپنے ایک مرید کو مقرر کیا کہ وہ ہر طرح اُن کی مدد کرے۔آریوں، عیسائیوں ، سناتن دھرمیوں برہموسما جیوں ،سکھوں ،ہتھیا سوفیکل سوسائٹی والوں ،فری تھنکروں ،غرضیکہ ہر مذہب و ملت کے لیڈروں کو مندرجہ بالا سوالات کے جواب لکھنے کی دعوت دی گئی۔مسلمانوں میں سے آپ کے علاوہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی مدعو تھے۔جلسہ کے لئے ۲۶، ۲۸،۲۷/ دسمبر کی تاریخیں مقرر کی گئی تھیں اور جلسہ کے انعقاد کے لئے اسلامیہ کالج لے کا ہال تجویز کیا گیا۔حضرت اقدس ابھی مضمون لکھ ہی رہے تھے کہ آپ کو الہاما بتایا گیا کہ آپ کا مضمون سب سے لے اس زمانہ میں موجود ہ اسلامیہ کالج بھی نہیں بنا تھا۔جلسہ انجمن حمایت اسلام لاہور کی عمارت واقعہ اندرون شیرانوالہ دروازہ میں منعقد ہوا تھا (مؤلف)