حیات طیبہ

by Other Authors

Page 178 of 492

حیات طیبہ — Page 178

178 منادی کی تھی۔اگر آسمان پر جانے کا واقعہ صحیح ہوتا۔تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ مستند اناجیل اربعہ میں اس کا ذکر نہ کیا جاتا۔سوم۔حال ہی میں حضرت مسیح کا کفن برآمد ہوا ہے۔جس میں آپ کا جسم مبارک واقعہ صلیب کے بعد لپیٹا گیا تھا۔اس کفن کے متعلق جرمن سائنسدانوں نے جو تازہ تحقیقات کی ہے۔اسے سکنڈے نیویا کے ایک اخبار "کیا مسیح صلیب پر فوت ہوئے“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔اخبار مذکور کے ایڈیٹر لکھتے ہیں : جرمن سائنسدانوں کا ایک گروہ آٹھ سال سے مسیح کے کفن کے متعلق تحقیق کر رہا تھا۔جس کا نتیجہ حال ہی میں پریس کو بتایا گیا ہے۔مسیح کا دو ہزار سالہ پرانا کفن اٹلی کے شہر ٹورن TURIN میں ملا ہے۔اس پر مسیح کے جسم کے نشانات ثبت ہیں۔سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے پوپ کو مطلع کیا ہے مگر پوپ اب تک خاموش ہے۔کیونکہ اس تحقیق کے نتیجہ میں کیتھولک چرچ کی مذہبی تاریخ کا اہم راز منکشف ہو کر رہ گیا تھا۔فوٹوگرافی کے فن کی مدد سے سائنسدانوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس چیز کو لوگ دو ہزار سال سے معجزہ خیال کرتے تھے وہ بالکل طبعی واقعہ ہے اور وضاحت سے ثابت کیا ہے کہ مسیح ہرگز 66 صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے۔“ اسی مضمون میں آگے چل کر لکھا ہے کہ: کپڑے کے دوہرے نشانات ظاہر کرتے ہیں کہ کپڑے کا نصف حصہ مسیح کے جسم پر لپیٹا گیا تھا اور باقی نصف سر پر۔پھر مسیح کے جسم کی گرمی اور دوا کے عمل نے جسم کے نشانات کو کپڑے میں نقش کر دیا اور مسیح کا تازہ خون کپڑے میں جذب ہو کر نشان بن گیا۔کانٹوں کا تاج پہنائے جانے سے حضرت مسیح کی پیشانی اور گڑی کے خراش، مسیح کا متورم دایاں کلمہ ، دائیں پہلو پر بھالے کا نشان اور کمر پر صلیب کی رگڑ کے نشان، یہ سب چیزیں فوٹو میں دیکھی جاسکتی ہیں مگر سب سے تعجب انگیز حقیقت یہ ہے کہ منفی فوٹو نے مسیح کی بند آنکھوں کو دو کھلی آنکھوں میں ظاہر کیا ہے۔تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ کیل ہتھیلی میں نہیں بلکہ کلائی کے مضبوط جوڑوں میں لگائے گئے تھے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بھالے نے مسیح کے دل کو مطلق نہیں چھوا۔بائیمیل کہتی ہے کہ مسیح نے جان دیدی مگر سائنسدان مُصر ہیں کہ دل نے عمل کرنا بند نہیں کیا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک گھنٹہ تک مسیح کے بے جان لٹکے رہنے سے خون کو خشک ہو کر ختم ہو جانا لے اس اخبار کا نام stock Holm zindiningen اس میں ۲ را پریل ۱۹۵۷ء کو یہ مضمون شائع ہوا ہے۔