حیات طیبہ — Page 179
179 چاہئے تھا اور اس صورت میں خون ہرگز کپڑے میں نہ آتا۔مگر کپڑے کا خون کو جذب کرنا بتاتا ہے کہ مسیح صلیب پر سے اُتارے جانے کے وقت زندہ تھے۔“ اے چہارم۔انڈین محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت سرینگر کے ماحول میں جو تازہ کھدائی ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا پرانا قبرستان برآمد ہوا ہے۔یہ بھی بتاتا ہے کہ کسی زمانہ میں یہاں عیسائیت کا زور تھا۔پنجم۔حال ہی میں فلسطین کے مشرق اور بحیرہ مردار کے شمال میں وادی قمران کی غاروں میں سے عیسائی محققین کی تحقیق کے مطابق حضرت مسیح ناصری کے لکھے ہوئے متعد دز بور برآمد ہوئے ہیں۔ان زبوروں میں یہ ذکر ہے کہ دشمنوں نے مجھے ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے موت کے منہ سے بچایا اور قبر یا غار میں سے نکال کر سطح زمین پر مجھے لے آیا تا کہ غیر محدود مکانوں میں سیاحت کر سکوں اور ان زبوروں میں انہیں عقائد کا آپ نے اظہار کیا ہے جو قرآن مجید نے حضرت عیسی کے بیان کئے ہیں۔آریوں اور عیسائیوں کو مذہبی مباحثات کی اصلاح کے لئے نوٹس اور گورنمنٹ کی خدمت میں میموریل ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء چونکہ حضرت اقدس کو مذہبی مباحثات کے سلسلہ میں ہندوستان کی دو ایسی قوموں کے ساتھ واسطہ رہتا تھا جو اپنی تلخ زبانی میں مشہور تھیں۔ہماری مراد اس سے آریہ اور عیسائی ہیں۔اس لئے حضرت اقدس نے ۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ان دونوں قوموں کے نام ایک نوٹس جاری فرمایا اور اس میں گورنمنٹ آف انڈیا کو بھی توجہ دلائی کہ مباحثات کی جو موجودہ طرز ہے اسے یکسر بدل دینا چاہئے اور اس کی بجائے ہونا یہ چاہئے کہ اول۔کوئی فریق کسی دوسرے فریق پر ایسا اعتراض نہ کرے۔جو خود اس کی اپنی الہامی کتاب پر پڑتا ہو۔دوم۔ہر فریق اپنی مسلم اور مقبول کتابوں کی فہرست شائع کر دے اور کسی معترض کو یہ حق نہ ہو کہ ان کتب سے باہر کسی کتاب کے حوالہ سے اعتراض کرے۔چنانچہ حضور نے جومسلمہ مقبولہ کتابوں کی فہرست شائع فرمائی وہ یہ ہے۔اول قرآن شریف۔دوم۔بخاری شریف۔بشرطیکہ اس کی کوئی حدیث قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔سوم۔صحیح مسلم۔بشرطیکہ اس کی کوئی حدیث قرآن شریف اور بخاری کی کسی حدیث کے مخالف نہ ہو۔چہارم صحیح ترمذی۔لے دیکھئے اخبار مذکور کی اشاعت ۱/۲ پریل ۱۹۵۷ء سے ان زبوروں کے لئے ملاحظہ ہو کتاب The riddle of the scrolls by H۔E۔Del medico