حیات طیبہ — Page 172
172 جگہ ان کی کتاب سے قارئین کی ضیافت طبع کے لئے ان کا ایک علمی لطیفہ درج کر دیا جائے۔آپ فرماتے ہیں: مدراس کی مسجد والا جاہی میں حضرت مرزا صاحب سے بیعت کر لینے کے بعد جب میں نے درود شریف کا وعظ کہنا چاہا تو روک دیا گیا۔جب میں وہاں سے چلا تو ایک مسلمان با ایمان نے مجھ کو کہنا شروع کیا۔یہ کافر ہے۔کافر ہے۔یہ دجال ہے۔یہ دجال ہے۔میں نے دل میں سوچا یہ شخص بھی ہمارے ہی دعوے کی تائید کرتا ہے۔کیونکہ نہ میں ایک چشم تھا۔نہ ستر باغ کے گدھے پر سوار تھا۔نہ زندہ کو مردہ نہ مردہ کو زندہ کرتا تھا پھر وہ بھلا آدمی مجھ کو دجال کیوں کہتا تھا۔صرف اسی وجہ سے کہ اس نے اپنے خیال میں یہ سمجھ لیا تھا کہ میں حضرت اقدس مرزا صاحب کا متبع ہونے کی وجہ سے گمراہ ہو گیا اور گمراہی پھیلانا چاہتا ہوں۔پھر جب وہ ایک کلمہ گواہلِ قبلہ کو جو فورا نماز جمعہ پڑھ کر درود شریف کے فضائل بیان کرنا چاہتا تھا۔دجال کہنا جائز سمجھتا تھا تو پھر اگر ہم نے عیسی پرست قوم کو جو گمراہ کرنے میں اپنا نظیر نہیں رکھتی۔دجال کہا۔تو کیا بے جا کیا۔خسوف و کسوف کا آسمانی نشان اپریل ۱۸۹۴ء چونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کے نشانات میں سے منجملہ اور نشانوں کے ایک یہ نشان بھی تھا کہ رمضان شریف کے مہینے میں چاند گرہن اور سورج گرہن ہوگا اور وہ حدیث یہ ہے: إِنَّ لِمَهْدِيْنَا أَيَتَيْنِ لَمْ تَكُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ۔یعنی ہمارے مہدی کے لئے دو نشانات ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان بنے ہیں۔ایسے نشانات اور کسی مدعی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔اور وہ نشانات یہ ہیں کہ چاند پر گرہن پڑنے کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ یعنی تیرہ کو اور سورج پر گرہن پڑنے کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں یعنی اٹھائیس " کو گرہن لگے گا۔“ اور یہ نشان ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۴ء میں زمین کے مشرقی گرہ یعنی یورپ و ایشیا اور افریقہ میں ظاہر وا۔سے اور ۱۸۹۵ء میں زمین کے مغربی گرہ یعنی امریکہ میں۔فالحمد للہ علی ذالک۔اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں گرہن دکھا کر اس بات کی گواہی دیدی کہ یہ امام ہماری طرف سے ہے۔دوسرے یہ ظاہر کر دیا کہ اس کی دعوت بھی اس کے نبی متبوع و مطاع یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سارے تائید حق صفحه ۱۳۶ ۲ دار قطنی صفحه ۱۰۰ سے دار قطنی صفحہ ۱۰۰ سے دیکھئے پایونیر اور سول اینڈ ملٹری گزٹ ۶ دسمبر ۱۸۹۴