حیات طیبہ

by Other Authors

Page 171 of 492

حیات طیبہ — Page 171

171 ہاتھ آگیا تھا۔ایک قدم آگے رکھتا۔ایک قدم پیچھے رکھتا۔شیطان کہتا کہ میاں اگر بر بادی اور تباہی اور ذلت ورسوائی سے بچنا ہے تو چپ چاپ قادیان سے نکل چلو۔فرشتہ کہتا کہ اوکم بخت تو نے حدیث نہیں پڑھی کہ جس نے امام وقت کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا۔پھر جس حالت میں خداداد عقل تجھ کو بتارہی ہے کہ جناب حضرت مرزا صاحب امام الزمان ہیں۔تو ان سے روگردان ہوکر کہاں جائے گا۔کیا دنیا کی چند روزہ زندگی کے کام اور جھوٹی عزت پر اپنے ابدال آباد کے نفع کو غارت کر دے گا۔اوکو نہ اندیش ! جس روحانی مرض میں تو مبتلا ہے اس کی دوا تک اللہ نے تجھ کو پہنچادیا۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب ایسا بے ریا فاضل اپنا ذاتی تجر بہ پیش کر کے اس دوا کا فائدہ مند ہونا بتا تا ہے۔پھر کیسی کم بختی تجھ کو آئی ہے۔اپنی صحت روحانی کا دشمن بن کر اندرونی پلیدی اور منافقانہ زندگی میں ڈوبا رہنا چاہتا ہے اے حضرات! میں نے فرشتہ کی بات من لی اور تاریخ ۱۱ جنوری ۱۸۹۴ ء شب جمعہ کو حضرت امام الوقت مجد د زمان جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان سے بیعت کر لی اور ان کو اپنا امام قبول کر لیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔بیعت کرنے کے بعد تین دن تک قادیان میں رہنے کا موقعہ ملا۔ان اخیر کے تین دن میں جب میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔تو مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ اب میں نماز پڑھتا ہوں یعنی مجھے عجیب حلاوت اور عجیب مزہ نماز میں ملتا تھا۔۱۳ جنوری کو میں اپنے امام سے رخصت ہو کر لاہور میں آیا اور ایک بڑی دھوم دھام کا لیکچر انگریزی میں دیا۔جس میں حضرت اقدس کے ذریعہ سے جو کچھ روحانی فائدہ ہوا تھا۔اس کا بیان کیا۔جب میں اس سفر پنجاب سے ہو کر مدراس پہنچا تو میرے ساتھ وہ معاملات پیش آئے جو صداقت کے عاشقوں کو ہر زمانہ اور ہر ملک میں اُٹھانے پڑتے ہیں۔مسجد میں وعظ کہنے سے روکا گیا۔ہر مسجد میں اشتہار دیا گیا کہ حسن علی سنت جماعت نہیں ہے۔کوئی اس کا وعظ نہ سنے۔پولیس کو اطلاع دی گئی کہ میں فساد پھیلانے والا ہوں۔وہ شخص جو چند ہی روز پہلے شمس الواعظین جناب مولانا مولوی حسن علی صاحب واعظ اسلام کہلا تا تھا۔صرف حسن علی لیکچرار کے نام سے پکارا جانے لگا۔پہلے واعظوں میں ایک ولی سمجھا جاتا تھا۔اب مجھ سے بڑھ کر شیطان دوسرا نہ تھا۔جدھر جاتا انگلیاں اُٹھتیں۔سلام کرتا جواب نہ ملتا۔مجھ سے ملاقات کرنے سے لوگ خوف کرتے ہیں۔ایک خوفناک جانور بن گیا۔اے جناب مولوی حسن علی صاحب موصوف بہت ظریف طبع اور بذلہ سنج آدمی تھے۔بے محل نہ ہو گا۔اگر اس لے تائید حق صفحہ اے تا ۷۵