حیات طیبہ

by Other Authors

Page 155 of 492

حیات طیبہ — Page 155

155 انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں کو وہاں سے رخصت کر دیا۔“ عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی اپنے آخری پرچہ میں حضرت اقدس نے باذنِ الہی پادری عبداللہ آتھم کے متعلق ایک پیشگوئی کا بھی اعلان فرمایا۔اور وہ یہ کہ : آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دُعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر۔اور ہم عاجز بندے ہیں۔تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے سواس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمدا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور بچے خدا کو مانتا ہے۔اس کی اس سے عزبات ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجا کھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سنے لگیں گے۔‘ سے اس پیشگوئی کی وجہ حضرت اقدس نے یہ بیان فرمائی کہ عیسائی مناظر ڈپٹی عبداللہ آتھم نے ایک کتاب لکھی تھی۔جس کا نام ”اندرونہ بائیبل تھا۔اس کتاب میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ من ذالک دجال“ کہا تھا اور اسلام پر بھی ہنسی اڑائی تھی۔حضرت اقدس نے جب پیشگوئی کے ساتھ اسے یہ بات بھی یاد دلائی تو اس نے فوراً زبان باہر نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھے۔رنگ زرد ہو گیا۔آنکھیں پتھر ا گئیں اور سر ہلا کر کہا کہ میں نے تو ایسا نہیں لکھا۔“سے حالانکہ وہ ایسا لکھ چکا تھا۔مگر پیشگوئی کی ہیبت کی وجہ سے وہ سخت گھبرا گیا اور بے اختیار ہو کر کہ اٹھا کہ میں نے تو دجال نہیں کہا : دو گویا اسی وقت رجوع الی الحق کا اظہار کر دیا اور اس کے بعد مرتے دم تک ایک لفظ بھی اسلام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہ لکھا۔آتھم کے انجام اور اس الہامی پیشگوئی کی کیفیت کے لئے انوار الاسلام اور انجام آتھم ملاحظہ فرمائیں۔“ ہے کے روایت نمبر ۱۷۶ بیان حضرت میر محمد اسمعیل صاحب۔سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ ۱۹۱، ۱۹۲ سے جنگ مقدس سی کے رسالہ نور احمد صفحہ ۳۲