حیات طیبہ

by Other Authors

Page 152 of 492

حیات طیبہ — Page 152

152 اقدس پہلے دن بحث کے لئے تشریف لے جانے لگے تو شیخ حامد علی صاحب کو فرمایا کہ ایک گلاس اور ایک صراحی پانی کی ساتھ لے چلو۔جب ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی میں داخل ہوئے۔تو معلوم ہوا کہ بحث کا انتظام کوٹھی کے برآمدہ میں جہاں پر شرطیں طے ہوئی تھیں کیا گیا ہے۔کیونکہ وہ کافی کشادہ تھا۔ڈاکٹر ہنری کلارک صاحب نے مٹی کے کورے مٹکے منگوائے اور ان میں برف ڈالی اور مصری وغیرہ بھی۔تاکہ مسلمانوں کی ٹھنڈے شربت سے تواضع کی جائے۔اس موقعہ پر حضرت اقدس کے واسطے ڈاکٹر صاحب کا خانساماں ایک گلاس برف آمیز شربت کا لایا۔تو حضور نے فرمایا کہ ہم اپنے لئے پینے کا پانی ساتھ لائے ہیں۔ہم اور ہمارے ہمرا ہی کوئی دوسرا پانی نہیں پیئیں گے۔دوسرے مسلمانوں کو اختیار ہے۔ہماری اور پادری صاحبان کی یہ مذہبی جنگ ہے۔جب ہماری اور ان کی صلح ہو جائے گی تو پانی وغیرہ پینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔اس بات کا غیر احمد یوں پر بھی اثر ہوا۔انہوں نے بھی وہ پانی نہ پیا۔اور وہ سب گھڑے جوں کے توں رکھے رہے۔عیسائی خود ہی اس پانی کو استعمال کرتے رہے۔مسلمان ایک اور کوئیں سے پیتے رہے۔پھر بحث کا آغاز ہو گیا اور پرچے لکھے جانے لگے۔پرچہ ختم ہونے پر مضمون کھڑے ہو کر سنایا جاتا تھا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ حضرت اقدس کا پرچہ سنانے کے لئے کھڑے ہوتے۔پہلے سورہ فاتحہ پڑھتے اور پھر پرچہ کے ایک ایک لفظ کو دو دو تین تین بار پڑھتے تو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کہتے دیکھو صاحب۔ایک بار لکھا ہے آپ بار بار کیوں پڑھتے ہیں۔مگر وہ پروانہیں کرتے تھے اور اسی طرح پڑھتے جاتے تھے۔خدا تعالیٰ نے اُن کو روحانی بصیرت بخشی تھی۔ایک ایک لفظ پر اُن کو لطف اور وجد آتا تھا۔پادری صاحبان چلاتے رہے اور یہ بے تکلف ایسا کرتے رہے۔میں نے دیکھا کہ احاطہ کے باہر صد ہا آدمی کھڑے ہیں۔میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ بہت سے لوگ اس بحث کے سننے کے مشتاق ہیں اور ایک مجمع کثیر باہر کھڑا ہے اور کوٹھی میں پچاس پچاس آدمیوں کے آنے کی اجازت ہے اور داخلہ بذریعہ ٹکٹ ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہر روز کی بحث کے طرفین کے پرچے اپنے مطبع میں چھاپ دیا کروں۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ہماری طرف سے اجازت ہے۔بے شک چھاپ دیا کریں۔پھر میں نے احتیاطاً پادری صاحبان سے کہا کہ اس بارہ میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تب آتھم صاحب نے دبی زبان سے کہا کہ ہاں۔ہماری طرف سے بھی اجازت ہے۔پس میں ہر روز طرفین کے پرچے چھاپتار ہا اور لوگ خریدتے رہے۔“