حیات طیبہ — Page 153
153 اسی طرح پندرہ روز مباحثہ ہوتا رہا۔الوہیت مسیح کی تردید میں جب حضرت نے یہ لکھوایا کہ ایک عاجز اور ناتواں انسان کو تم خدا بنارہے ہو جو عورت کے پیٹ میں نو ماہ رہ کر اور خون حیض سے پرورش پا کر دوسرے عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا کیا ایسا وجود بھی خدا ہوسکتا ہے؟ تو پادری صاحبان یہ بات سُن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ الفاظ ہم خداوند یسوع مسیح کی نسبت نہیں سننا چاہتے۔مرزا صاحب ہمارے سینوں میں چھریاں گھونپ رہے ہیں اور ہماری گردنوں پر تلواریں چلا رہے ہیں اور مباحثہ چھوڑ کر چلنے کو تیار ہو گئے۔یہ نظارہ دیکھ کر حضرت اقدس نے فرمایا۔یہ تو اب بھاگیں گے میں جو لکھواتا ہوں لکھے جاؤ۔یہ حالت دیکھ کر پادری مارٹن کلارک نے کہا میں سمجھتا تھا کہ مسلمانوں میں شور اُٹھے گا۔اُلٹا عیسائیوں میں ہی شور پڑ گیا اور عیسائیوں سے کہا۔بیٹھ جاؤ۔اب تمہارا بھا گنا بے فائدہ ہے۔یہ مستعدی کا وقت ہے سب بیٹھ جاؤ۔غرض الوہیت مسیح کا حضرت اقدس نے ایسے طریقہ سے رڈ کیا کہ عیسائی لا جواب ہو گئے۔جو آدمی جنگ مقدس نامی کتاب جو اس مناظرہ کی مکمل روئیداد ہے پڑھے گا خود ہی تمام حالات سے آگاہ ہو جائے گا۔اپنے پر چہ میں آتھم صاحب کو لا جواب ہو کر یہ لکھوانا پڑا کہ مسیح تیس برس تک عام انسانوں کی طرح تھا۔جب اُس پر روح القدس نازل ہوا تو مظہر اللہ کہلایا۔اس پر حضرت نے جواب لکھوایا کہ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ مسیح انسان اور نبی تھا۔جب کسی انسان پر روح القدس نازل ہوتا ہے تو وہ مظہر اللہ یعنی نبی بن جاتا ہے۔یہ بات سُن کر عیسائیوں کے رنگ زرد ہو گئے اور ہنری مارٹن صاحب گھبرا گئے اور آتھم صاحب بھی گھبرا گئے۔عیسائیوں نے فورا کہا کہ آتھم صاحب یہ آپ نے کیا لکھوادیا۔تو آتھم صاحب نے جواب دیا کہ میں اور کیا لکھواتا۔جو لکھوانا تھا سولکھوادیا۔میں بیمار ہوں مجھے چھوڑو میں جاتا ہوں۔تم جو چاہو لکھواؤ“ ناظرین کو جنگ مقدس کے فوٹو سے یہ ساری کیفیت معلوم ہوسکتی ہے۔آتھم صاحب میں حق کا رنگ غالب آ گیا تھا۔آتھم صاحب بیمار ہو گئے۔مگر آخری دنوں میں عیسائیوں کے تقاضا اور مجبور کرنے سے آتے رہے۔بیچ میں ہنری مارٹن کلارک بحث کے لئے پچھنے گئے۔انہوں نے اِدھر اُدھر کی باتوں میں بمشکل تمام دن پورے کئے۔لے دیکھئے رسالہ نور احمد از صفحہ ۲۰ تا ۳۲