حیات طیبہ — Page 151
151 کیا کہ تاریخ وغیرہ کا فیصلہ ہو جانا چاہئے اور بحث کتنے روز تک ہوگی اور نیز یہ کہ بحث تحریری ہونی چاہئے اور ساتھ ساتھ لکھی جانی چاہئے۔پس آپس کی گفتگو کے بعد تاریخ مقرر ہوگئی اور پندرہ دن بحث کے مقرر ہوئے جب امرتسر اور بٹالہ کے مولویوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آتھم صاحب کی کوٹھی پر جا کر کہا کہ تم نے دوسرے علماء سے بحث کیوں منظور نہ کی۔مرزا صاحب سے کیوں بحث پر رضامندی ظاہر کی ان کو تو تمام علماء کا فر کہتے ہیں اور ان کے اوپر اور ان کے مریدوں پر کفر کے فتوے لگ چکے ہیں۔آتھم صاحب تو پہلے ہی حضرت صاحب سے خوفزدہ تھے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک سے کہنے لگے کہ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مرزا صاحب سے بحث کرنا آسان نہیں۔بھڑوں کے چھتہ میں ہاتھ ڈالنا ہے اب یہ موقعہ جان بچانے کا اچھا ہاتھ آگیا ہے۔جان بچی لاکھوں پائے۔مرزا صاحب کو جواب دے دو اور ان مولویوں سے بے شک مباحثہ کر لو۔کوئی ہرج نہیں۔اس کے بعد پادریوں نے باہم مشورہ کر کے حضرت صاحب کو لکھا کہ اب اور مولوی صاحبان بحث کے لئے آمادہ ہو گئے ہیں اس لئے آپ بحث کے لئے تشریف لانے کی تکلیف گوارا نہ کریں کیونکہ تمام دوسرے مسلمان آپ کو کافر کہتے ہیں۔اس لئے آپ اسلام کے وکیل نہیں ہو سکتے۔بنابر میں اب ہم مولویوں سے بحث و مناظرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں آپ سے نہیں۔حضرت اقدس نے اس کے جواب میں یہ لکھا کہ اب آپ کا انکار درست نہیں۔آپ لوگوں کی تحریریں اور وعدے اور منظور کردہ شرائط ہمارے پاس ہیں پس آپ کو یا تو بحث کرنی ہوگی یا پھر شکست تسلیم کرنا پڑے گی۔اگر یہ بات اخباروں میں شائع کر دو اور اپنی شکست کا اعتراف کر لو۔تو پھر تمہیں اختیار ہے جس مولوی سے چاہو بحث کرلو۔نیز فرمایا کہ تم ہمیں کفر کے فتووں کا طعنہ دیتے ہو حالانکہ یہ فتاویٰ کفر ہم پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے سچے مسلمان ہیں اور ایک خدا ترس، عالم فاضل مسلمانوں کی جماعت ہمارے ساتھ ہے اور کفر کے فتوے تو آپ لوگوں پر بھی لگ چکے ہیں۔پروٹسٹنٹ کیتھولک مذہب والوں کو کافر بلکہ واجب القتل یقین کرتے ہیں۔پھر تو آپ بھی عیسائیت کے وکیل نہیں ہو سکتے۔پس فتاوی کفر میں ہم تو برابر ہیں۔بحث تو دراصل حق اور باطل میں ہے کہ آیا حق آپ کی طرف ہے یا ہم حق پر ہیں اس پر کفر کے فتووں کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ہم نے اسلام اور قرآن کریم کی وکالت کرنی ہے اور آپ نے اناجیل کی۔بھلا اس کو فتاویٰ کفر سے کیا تعلق پچاس پچاس آدمی طرفین سے مناظرہ میں حاضری کے لئے تجویز ہوئے ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں جا سکتا تھا۔جب حضرت