حیات طیبہ — Page 146
146 کہ وہ مقابلہ کے وقت نہایت رسوا ہوں گے۔ان میں دہریت اور بے قیدی کی چالا کی سب سے زیادہ ہے مگر خدا تعالیٰ ان پر ظاہر کر دے گا کہ میں ہوں۔اور اگر مقابلہ نہ کریں تو یک طرفه نشان بغیر کسی بیہودہ شرط کے مجھ سے دیکھیں اور میرے نشان کے منجانب اللہ ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ اگر ایسا آریہ جس نے کوئی نشان دیکھا ہو بلا توقف مسلمان نہ ہو جائے تو میں اس پر بددعا کروں گا۔پس اگر وہ ایک سال تک جذام یا نابینائی یا موت کی بلا میں مبتلا نہ ہو تو ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں اور باقی صاحبوں کے لئے بھی یہی شرائط ہیں اور اگر میری طرف اب بھی منہ نہ کریں تو ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو چکی۔‘اء افسوس ہے کہ اس دعوت مباہلہ کو عملاً کسی غیر مسلم نے بھی قبول نہ کیا۔رسالہ برکات الدعا کی تصنیف ۱/۲۰ پریل ۱۸۹۳ء ہندوستان کے ایک سرکردہ مسلم لیڈر سرسید احمد خاں صاحب مرحوم بائی دار العلوم علیگڑھ ایک نہایت ہی ہمدرد مسلمین قابل اور سیاسی رہنما تھے مگر مغربیت کی رو سے متاثر ہو کر انہیں یہ خیال ہو گیا تھا کہ دعا محض ایک عبادت ہے جو دنیا میں کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتی۔البتہ آخرت میں اس کا ثواب ملے گا کیونکہ ہم اکثر دُعائیں دیکھتے ہیں جن کا نتیجہ حسب خواہش ظاہر نہیں ہوتا۔اور ان کا یہ بھی خیال تھا کہ وحی باہر سے آنے والی کوئی چیز نہیں بلکہ دل ہی سے اُٹھتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ دونوں عقیدے نہایت خطرناک اور اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف تھے۔اس لئے حضور نے سر ستید مرحوم کے خیالات مذکورہ کے خلاف ”برکات الدعا“ کے نام سے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس میں لکھا کہ سرسید کا یہ عقیدہ ایسا ہے جس نے خالق اور مخلوق کے باہمی تعلق کو بالکل توڑ کر رکھ دیا ہے۔علاوہ ازیں آپ نے اس رسالہ میں وحی کی کیفیت پر اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی رو سے ایک مفصل مضمون لکھا اور دعا کی قبولیت کے بارے میں اپنی اس پیشگوئی کو جو آپ نے لیکھرام کی موت کے متعلق فرمائی تھی۔نمونہ قبولیت دعا کے طور پر پیش کر کے فرمایا اے کہ گوئی گر دعا ہارا اکثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار ز میں اسرار قدرت ہائے حق قصہ کوتاہ کن ہیں از ما دعائے مستجاب ،، یعنی اے وہ شخص جو یہ کہ رہا ہے کہ اگر دعا میں کوئی اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے؟ جلدی سے میری طرف آ کہ میں تجھے آفتاب کی طرح دُعا کا اثر دکھاؤں گا۔خبر دار! خدا کی قدرتوں کے اسرار سے از اشتہار مندرجہ آئینہ کمالات اسلام بار اول صفحہ ۲۷۲ تا ۲۷۸ ۳، برکات الدعا