حیات طیبہ

by Other Authors

Page 138 of 492

حیات طیبہ — Page 138

138 اشتہارات بھی شائع فرمائے مناظرے اور مقابلے کے لئے بھی لوگوں کو بلایا۔آسمانی فیصلہ کے لئے بھی تو جہ دلائی۔اولیائے اُمت اور ملہمین کی شہادتیں بھی اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کیں اور علاوہ اس کے ایک ایسا طریق فیصلہ بھی پیش فرمایا۔جو شریف النفس لوگوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مفید ہو سکتا تھا اور ہوسکتا ہے اور وہ ہے استخارہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے براہ راست حضور کے دعوے کے بارہ میں حالات دریافت کرنا۔حضور فرماتے ہیں : اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مؤاخذہ الہی سے ڈرتے ہیں وہ بلا تحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں۔اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اور ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہو جائیں۔کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعوئی جو اس عاجز نے کیا۔اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اول تو به نصوح کر کے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورہ یسین اور دوسری رکعت میں اکیس مرتبہ سورہ اخلاص اور پھر بعد اس کے تین سومرتبہ درود شریف اور تین سو مرتبہ استغفار پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اے قادر کریم ! تو پوشیدہ حالات کو جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور مردود اور مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔پس ہم عاجزی سے تیری طرف التجا کرتے ہیں کہ اس شخص کا تیرے نزدیک کہ جو مسیح موعود اور مہدی اور مجد دالوقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیا حال ہے۔کیا صادق ہے یا کاذب؟ اور مقبول ہے یا مردود؟ اپنے فضل سے یہ حال رویا یا کشف یا الہام سے ہم پر ظاہر فرما۔تا اگر مردود ہے تو اس کے قبول کرنے سے ہم گمراہ نہ ہوں۔اور اگر مقبول ہے اور تیری طرف سے ہے تو اس کے انکار اور اس کی اہانت سے ہم ہلاک نہ ہو جائیں ہمیں ہر قسم کے فتنہ سے بچا کہ ہر ایک قوت تجھ کو ہی ہے۔آمین۔یہ استخارہ کم سے کم دو ہفتہ کریں، لیکن اپنے نفس سے خالی ہو کر۔کیونکہ جو شخص بغض سے بھرا ہوا ہے اور بدظنی اس پر غالب آگئی ہے۔اگر وہ خواب میں اس شخص کا حال دریافت کرنا چا ہے جس کو وہ بہت ہی برا جانتا ہے تو شیطان آتا ہے اور موافق اس ظلمت کے جو اس کے دل میں ہے اور پر ظلمت خیالات اپنی طرف سے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے پس اس کا حال پہلے سے بھی بدتر ہوتا ہے۔سواگر تو اللہ تعالیٰ سے کوئی خبر دریافت کرنا چاہے تو اپنے سینہ کوبکی بغض وعناد سے دھو ڈال اور اپنے تئیں بکلی خالی انفس کر کے اور دونوں پہلوؤں بغض اور محبت سے الگ ہوکر اس