حیات طیبہ

by Other Authors

Page 132 of 492

حیات طیبہ — Page 132

132 مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے مباحثہ مولوی عبد الحکیم صاحب سے حضرت اقدس کا مناظرہ آپ کے ان الفاظ پر تھا جو آپ نے فتح اسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام میں لکھتے تھے کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے مولوی صاحب کا موقف یہ تھا کہ ان الفاظ سے نبوت حقیقیہ کا دعویٰ ظاہر ہوتا ہے لیکن حضرت اقدس کے یہ فرمانے پر کہ ان الفاظ سے میری یہ مراد نہیں اور نہ ان کا یہ مطلب ہے کہ میں نے نبوت حقیقیہ دعوی کیا ہے اور یہ مضمون لکھ کر دے دینے پر مناظرہ ختم ہو گیا كري اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت نا قصہ ہے۔یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حا شاو کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعوی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں میں یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شده تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔۔۔اور اس کو ( یعنی لفظ نبی کو ) کا ٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘1 مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کے نظر خلایق سے گر جانے کی ابتداء اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقدس کے متعلق یہ لکھا کہ میں ہی نے اس کو اونچا کیا تھا اور میں ہی اس کو گراؤں گا۔تو معرز اور مذل خدا کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے فرمایا: إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ وَإِنِّي مُعِيْنٌ مَّنْ أَرَادَا عَانَتَكَ ! ا اشتہار ۳ فروری ۱۸۹۲ء سے جو شخص تجھے ذلیل کرنیکا ارادہ بھی کردیگا۔میں اسکوذلیل کر ڈونگا اور جو تیری اعانت کا ارادہ بھی کر دیگا میں اس کی اعانت کرونگا