حیات طیبہ — Page 92
92 حضرت اقدس کی چٹھی کے اس اقتباس سے پتہ لگتا ہے کہ امرتسر کا غزنوی گروہ بھی حضور کی مخالفت میں تشدد پر اتر آیا تھا اور مباہلہ کرنے کے لیے بھی تیار تھا۔اس کے بعد مولوی حسین صاحب کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ دراز ہوتا گیا جس میں سے چند باتیں ناظرین کے فائدہ کے لیے عرض کرتا ہوں۔خط و کتابت میں سے چند باتیں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بطور اعتراض اپنے ایک خط میں براہین احمدیہ میں سے حضرت اقدس کی اس عبارت کو بھی پیش کیا جس میں آپ نے مسلمانوں کے معروف عقیدہ کی بناء پر یہ لکھ دیا تھا کہ حضرت مسیح جب دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا۔اس کا جواب حضرت اقدس نے بڑی وضاحت کے ساتھ دیا جس کا خلاصہ حضور کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر براہین احمدیہ میں ابن مریم کے موعود یا غیر موعود ہونے کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا۔صرف ایک مشہور عقیدہ کے طور سے ذکر کر دیا تھا۔آپ کو اس جگہ اُسے پیش کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعض اعمال میں جب تک وحی نازل نہیں ہوتی تھی۔انبیائے بنی اسرائیل کی سنن مشہورہ کا اقتدا کیا کرتے تھے اور وحی کے بعد جب کچھ ممانعت پاتے تھے تو چھوڑ دیتے تھے۔اس کو تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے آپ جیسے فاضل کیوں نہیں سمجھیں گے۔‘1 مولوی محمد حسین صاحب یہ چاہتے تھے کہ مناظرہ میں اپنے دعوی کے اثبات اور وفات مسیح ثابت کرنے کے لئے پہلے حضرت اقدس پر چلکھیں۔مگر حضرت اقدس کا موقف یہ تھا کہ میں نے بذریعہ فتح اسلام و توضیح مرام اور نیز بذریعہ اس حصہ ازالۃ الا وہام کے جو قول فصیح سے میں شائع ہو چکا ہے اچھی طرح اپنا دعوی بیان کیا ہے اور وہ دعوی یہی ہے کہ میں الہام کی بنا پر مثیل مسیح ہونے کا مدعی ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت مسیح ابن مریم در حقیقت فوت ہو گئے ہیں۔سواس عاجز کا مثیل مسیح ہونا تو آپ اشاعت السنیہ“ میں امکانی طور پر مان چکے ہیں اور میں اس سے زیادہ آپ سے تسلیم بھی نہیں کراتا۔اگر میں حق پر ہوں تو خود اللہ جل شانہ' میری مددکرے ه از مکتوب حضرت اقدس مورخہ ۱۴ / مارچ ۱۸۹۱ء بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے یہ رسالہ سیالکوٹ سے منشی غلام قادر صاحب فصیح کی ادارت میں شایع ہوا کرتا تھا۔