حیات طیبہ — Page 90
90 دعوی مسیح موعود او اخر ه ۱۸۹ء ۱۸۹۰ء کے اواخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس امر کا انکشاف فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح ابن مریم کے آنے کی خبر دی تھی وہ تو ہی ہے۔پہلا مسیح آسمان پر خا کی جسم کے ساتھ ہرگز زندہ نہیں بلکہ وہ دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو چکا ہے۔گو اس سے قبل بھی کئی ایک الہامات اور بشارات کے ذریعہ آپ مسیح موعود قرار دیئے گئے تھے مگر جب تک آپ پر صراحت کے ساتھ انکشاف نہیں ہوا۔آپ اپنے پرانے عقیدے پر قائم رہے اور عام مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح ناصری کو جسد عنصری کے ساتھ آسمان ہی پر سمجھتے اور مانتے رہے مگر جب انکشاف ہو گیا تو آپ نے اس کے اظہار میں ایک لمحہ کے لئے بھی توقف نہیں فرمایا۔رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام“ کی اشاعت ” چنانچہ آپ نے دعویٰ مسیحیت کے اعلان کے لئے ایک مختصر سارسالہ ”فتح اسلام“ شائع فرما دیا جس کے ٹائٹل پیج پر یہ الہامی رباعی درج ہے۔کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے ہیں جس کی مماثلت کو خدا نے بتادیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب و خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا یہ رسالہ اور ایسا ہی توضیح مرام ۱۸۹۰ء کے آخر میں لکھے گئے اور ۱۸۹۱ ء کی پہلی سہ ماہی میں شائع ہوئے۔ان رسالوں کا شائع ہونا تھا کہ مخالفت کی آگ مشتعل ہونی شروع ہوگئی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مخالف کیمپ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اپنے مشہور سالہ اشاعت السنہ میں آپ کی شہرہ آفاق کتاب ”براہین احمدیہ پر ایک نہایت مبسوط تبصرہ لکھ کر آپ کے مناصب جلیلہ کی تائید کر چکے تھے وہ بھی آپ کے خلاف مضامین شائع کرنے لگے۔لدھیانہ کے مولوی عبد العزیز اور مولوی محمد وغیرہ جو کافی عرصہ سے آپ کے مخالف تھے اور آپ کے خلاف ہمیشہ اعتراضات کیا کرتے تھے مگر مولوی محمد حسین بٹالوی کے دفاعی حملوں کی وجہ سے دَب دب جاتے تھے۔اب ان کو بھی موقعہ ہاتھ آ گیا اور وہ بھی کھل کر مخالفت کرنے لگے۔مولوی محمد حسین صاحب کو تو آپ کے دعوئی مسیحیت کا اس وقت ہی علم ہو گیا تھا جبکہ ابھی آپ کا رسالہ ”فتح اسلام امرتسر کے ایک مطبع ریاض ہند میں چھپ رہا تھا۔انہوں نے کسی طرح سے رسالہ کے پروف منگوا کر دیکھ لئے اور فورا اپنے رسالہ اشاعت السنتہ میں آپ کو