حیات طیبہ

by Other Authors

Page 56 of 492

حیات طیبہ — Page 56

56 ”سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں۔افلاطون بن جاویں۔بیکن کا اوتار دھار میں ارسطو کی نظر اور فکر لاویں۔اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں۔پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے آلہہ باطلہ لے ایسے موقعہ پر عیسائیوں ، آریہ سماجیوں اور برہمو سماجیوں کا فرض تھا کہ وہ اس کتاب کے جواب میں اپنی طرف سے کوئی کتاب شائع کرتے ، مگر سوامی دیانند صاحب بھی جو براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد تین برس تک زندہ رہے بالکل خاموش ہی رہے اور برہموسا جیوں نے بھی چپ ہی سادھ لی۔البتہ آریہ سماج پشاور کے ایک شخص پنڈت لیکھرام نامی نے جو بعد میں آپ کے مقابلہ میں آکر ہمیشہ کے لئے آریہ دھرم کی شکست پر مہر لگا کر اس دنیا سے رخصت ہوا۔ایک کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے شائع کی۔جن لوگوں کو پنڈت مذکور کی تحریرات دیکھنے کا موقعہ ملا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس کی تحریر میں سوائے سب وشتم اور ہزلیات کے اور کچھ نہیں تھا۔یہ کتاب بھی جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ایسی ہی لایعنی باتوں کا مجموعہ تھی مگر اسے بھی بغیر جواب کے نہیں چھوڑا گیا حضرت اقدس کے نامور مُرید حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے جو بعد میں آپ کے خلیفہ اول قرار پائے ” تصدیق براہین احمدیہ کے نام سے اس کا جواب شائع کیا۔جو قابلِ دید ہے۔آپ کے علاوہ بعض ایسے لوگوں نے بھی جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہیں تھے۔تائید براہین احمدیہ اور رڈ تکذیب براہین احمدیہ میں کتا ہیں لکھی ہیں۔براہین احمدیہ پر ریویو ہم او پر لکھ چکے ہیں کہ اس بیش قیمت کتاب کو دیکھ کر مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور انہوں نے اس کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اس کی بہت ہی قدر کی۔چنانچہ چند ایک فاضل مسلمانوں کے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں۔۱۔مشہور اہلحدیث لیڈر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی رائے مشہور اہل حدیث لیڈر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا: ”ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لَعَلَّ اللهُ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ امرا۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی قلمی ولسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم ے براہین احمدیہ حصہ دوم سر ورق صفحه ۲، ۳، ۴