حیات طیبہ — Page 57
57 نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصا آریہ و برہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصارِ اسلام کی نشان دہی کرے۔جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اُٹھا لیا ہو اور مخالفین اسلام اور منکرینِ الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام میں شک ہو وہ ہمارے پاس آکر تجر بہ و مشاہدہ کرلے اور اس تجر بہ ومشاہدہ کا اقوام غیر کومزہ بھی چکھا دیا ہو۔“ لے -۲- صوفی احمد جان صاحب آف لدھیانہ کار یویو لدھیانہ کے مشہور و معروف صوفی حضرت حاجی احمد جان صاحب نے جن کے عقیدت مندوں کا حلقہ دُور دُور تک پھیلا ہوا تھا لکھا کہ :- "عالیجناب - فیض رسان عالم۔معدن جو دو کرم ، حجتہ الاسلام۔برگزیدہ خاص و عام حضرت میرزا غلام احمد صاحب دام بر کاتہم رئیس اعظم قادیان ضلع گورداسپور پنجاب نے ایک کتاب ” براہین احمدیہ، سلیس اردو زبان میں جس کی ضخامت تین سو جزو کے ہے چاروں دفتر جو کہ قریبا ۳۵ جز و ہیں نہایت خوشخط چھپ بھی گئے ہیں اور باقی وقتا فوقتا چھپتے جائیں گے اور خریداروں کے پاس پہنچتے رہیں گے۔یہ کتاب دینِ اسلام اور نبوت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کی حقانیت کو تین سو مضبوط دلائل عقلی اور نقلی سے ثابت کرتی ہے اور عیسائی ، آریہ، نیچریہ، ہنود اور برہم سماج وغیرہ جمیع مذاہب مخالف اسلام کو از روئے تحقیق رڈ کرتی ہے۔حضرت مصنف نے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام یا مکذب اسلام تمام دلائل یا نصف یا خمس تک بھی رڈ کر دے تو مصنف صاحب اپنی جائیداد دس ہزار روپیہ کی اس کے نام منتقل کر دیں گے۔۔۔۔۔اس چودھویں صدی کے زمانہ میں کہ ہر ایک مذہب و ملت میں ایک طوفان بے تمیزی بر پا ہے بقول شخصے، کافر نئے نئے ہیں مسلماں نئے نئے۔ایک ایسی کتاب اور ایک ایسے مجد دکی بے شک ضرورت تھی جیسی کہ کتاب براہین احمدیہ۔اس کے مؤلف جناب مخدومنا مولانا میرزاغلام احمد صاحب دام فیوضہ ہیں۔جو له اشاعت السنہ جلد ہفتم نمبر ۲ صفحہ ۱۶۹۔۱۷۰