حیات طیبہ — Page 55
55 ہونے والے مسلمان بھی آہستہ آہستہ اُسے چھوڑ گئے۔اے براہین احمدیہ کی تصنیف اور اشاعت جب حضور نے دیکھا کہ ان اسلام دشمن تحریکوں کا مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرنے سے مستقل فائدہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اخبارات زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتے۔تھوڑا عرصہ چر چا رہتا ہے اور پھر اصل مضامین لوگوں کے ذہنوں سے اُتر جاتے ہیں تو حضور نے ایک مستقل تصنیف ”براہین احمدیہ کے نام سے تیار کرنا شروع کی۔اس کتاب میں آپ نے قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ایسے ایسے زبردست دلائل دیئے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔آریہ سماجی ویدوں کے بعد کسی الہام الہی کے قائل نہ تھے اور برہمو سماج والے تو سرے ہی سے الہام کے منکر تھے اور نجات کے حصول کے لئے مجز د عقل ہی کو کافی سمجھتے تھے۔مغربی فلسفہ سے متاثر مسلمان بھی یورپ کی مادی ترقیات کو دیکھ کر الہام الہی سے انکار کی طرف مائل ہورہے تھے۔علماء اسلام ذرا ذراسی باتوں پر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا رہے تھے اور اسلام نہایت ہی بے بسی اور بیکسی کی حالت میں تھا۔کچھ لوگ عیسائیت کی آغوش میں جارہے تھے اور کچھ آریہ سماج اور برہمو سماج کا شکار ہورہے تھے۔ان حالات میں قادیان کی گمنام بستی سے خدا کا ایک پہلوان اُٹھا اور اُس نے قرآن مجید کی فضیلت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، الہام کی ضرورت اور اس کی حقیقت پر مشتمل ایک ایسی عدیم النظیر کتاب لکھی کہ جس سے جہاں دشمنان اسلام کے چھکے چھوٹ گئے وہاں مسلمانان ہند کے حوصلے بھی بلند ہو گئے۔اس کتاب کا پہلا حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا۔اس حصہ میں آپ نے جملہ مذاہب عالم کے لیڈروں کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید کی حقیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے ثبوت میں جو دلائل ہم نے اپنی الہامی کتاب یعنی قرآن کریم سے نکال کر پیش کئے ہیں۔اگر کوئی غیر مسلم ان سے نصف یا تیسرا حصہ یا چوتھا یا پانچواں حصہ ہی اپنے مذہب کے عقائد کی صداقت کے ثبوت میں اپنی الہامی کتاب سے نکال کر دکھا دے یا اگر دلائل پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے دلائل کو ہی نمبر وار توڑ کر دکھا دے تو میں بلا تامل اپنی دس ہزار روپیہ کی جائیداد اس کے حوالہ کردوں۔مگر یہ شرط لازمی ہوگی کہ تین مسلّمہ جوں کا ایک بورڈ یہ فیصلہ دے کہ جواب شرائط کے مطابق تحریر کیا گیا ہے۔اس چیلنج کے جواب میں بعض مخالفین اسلام نے اس کتاب کا رد لکھنے کے پر جوش اعلانات کئے جس پر آپ نے فوراً لکھا کہ: اے رسالہ " کو مدی" کلکتہ اگست ۱۹۲۰ء (ہندی سے ترجمہ)