حیات طیبہ

by Other Authors

Page 465 of 492

حیات طیبہ — Page 465

465 سر کے دورے اور سردی کی تکلیف کے لئے سب سے زیادہ آپ مشک یا عنبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ نہایت اعلیٰ قسم کا منگوایا کرتے تھے۔یہ مشک خریدنے کی ڈیوٹی آخری ایام میں حکیم محمد حسین صاحب لاہوری موجد مفرح عنبری کے سپر تھی۔عنبر اور مشک دونوں مدت تک سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی معرفت بھی آتے رہے۔مشک کی نو آپ کو اس قدر ضرورت رہتی کہ بعض اوقات سامنے رومال میں باندھ رکھتے تھے کہ جس وقت ضرورت ہوئی فورا نکال لیا۔“ نوٹ : حضرت میر صاحب موصوف کا یہ قیمتی مضمون خاکسار نے سیرت المہدی حصہ دوم مولفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ الرحمن سے نقل کیا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے لکھا ہے: میر صاحب کا ارادہ اس مضمون کو مکمل کرنے کا تھا مگر افسوس کہ نامکمل رہا۔اور اس کے باقی حصص ابھی تک لکھے نہیں گئے۔“ خاکسار مؤلف کتاب ہذا عرض کرتا ہے کہ اگر یہ مضمون مکمل ہو جا تا تو حضرت اقدس کے شمائل کے بارہ میں یہ ایک جامع و مانع تحریر ہوتی۔بالآخر یہ راقم آتم اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے مولا کریم کے حضور عرض کرتا ہے کہ اے میرے آسمانی آقا! میں نے اپنی بساط کے مطابق تیرے مسیح پاک کی زندگی کے کچھ حالات جمع کر کے انہیں ایک کتاب کی شکل میں پیش کر دیا ہے اور میرا ارادہ اور میری خواہش صرف اور صرف یہ ہے کہ تیری مخلوق تیرے مُرسل و مامور کے حالات زندگی کو پڑھ کر ان سے فائدہ حاصل کرے اور میرے حق میں دُعا کرے مگر اے میرے خالق و مالک خدا! اصل چیز تو تیری پسندیدگی کا اظہار ہے۔تو میری اس حقیر کوشش کو قبول فرما۔اور میرے گناہوں کو بخش کر مجھے اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے۔کہ یہی میری پہلی اور آخری خواہش ہے۔اللهم امين خاکسار راقم آثم عبد القادر ( سابق سوداگرمل ) حال مقیم مسجد احمد به بیرون دہلی دروازه لاهور بروز بدھ مورخه ۵ /اگست ۱۹۵۹ دعا گو شیخ عبدالماجد خوشنویس ربوه