حیات طیبہ

by Other Authors

Page 460 of 492

حیات طیبہ — Page 460

460 کیا کھاتے تھے میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ مقصد آپ کے کھانے کا صرف قوت قائم رکھنا تھا نہ کہ لذت اور ذائقہ اُٹھانا۔اس لئے آپ صرف وہ چیزیں ہی کھاتے تھے جو آپ کی طبیعت کے موافق ہوتی تھیں اور جن سے دماغی قوت قائم رہتی تھی تا کہ آپ کے کام میں ہرج نہ ہو۔علاوہ بریں آپ کو چند بیماریاں بھی تھیں۔جن کیوجہ سے آپ کو کچھ پر ہیز بھی رکھنا پڑتا تھا مگر عام طور پر آپ سب طیبات ہی استعمال فرمالیتے تھے اور اگر چہ اکثر آپ سے یہ پوچھ لیا جاتا۔کہ آج آپ کیا کھا ئیں گے؟ مگر جہاں تک ہمیں معلوم ہے خواہ کچھ پکا ہو آپ اپنی ضرورت کے مطابق کھا ہی لیا کرتے تھے اور کبھی کھانے کے بدمزہ ہونے پر اپنی ذاتی وجہ سے کبھی خفگی نہیں فرمائی۔بلکہ اگر خراب پکے ہوئے کھانے اور سالن پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا تو صرف اس لئے اور یہ کہ کر کہ مہمانوں کو یہ کھانا پسند نہ آیا ہوگا۔روٹی آپ تندوری اور چولہے کی دونوں قسم کی کھاتے تھے۔ڈبل روٹی چائے کیساتھ یا بسکٹ اور بکرم بھی استعمال فرمالیا کرتے تھے۔بلکہ ولائتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اس لئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے کیونکہ بنانے والے کا ادعا تو مکھن ہے پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔مگی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی۔کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہوگئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہو گئی تھی۔علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے اور باقر خانی قلچہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آجایا کرتے تھے آپ کسی کو رد نہ فرماتے تھے۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا۔مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی یہ دال ماش یا اُڑد کی ہوتی تھی جس کے لئے گورداسپور کا ضلع مشہور ہے۔سالن ہر قسم کا اور ترکاری عام طور پر ہر طرح کی آپ کے دستر خوان پر دیکھی گئی ہے اور گوشت بھی ہر حلال اور طیب جانور کا آپ کھاتے تھے پرندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا۔اس لئے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر فاختہ وغیرہ کے لئے شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کرتے تھے۔مُرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا۔مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا۔کھانے چھوڑ دیئے تھے بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے اور بنی اسرائیل میں ان کے کھانے سے سخت طاعون پڑی تھی۔حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا۔مگر آپ نے فرمایا کہ جائز ہے جس کا جی چاہے کھا لے مگر رسول کریم نے چونکہ اس سے کراہت فرمائی۔اس لئے ہم کو بھی اس سے کراہت ہے اور جیسا کہ وہاں ہوا تھا۔یہاں بھی لوگوں نے آپ کے مہمانخانہ بلکہ گھر میں بھی کچھ بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا۔مگر آپ نے اُسے اپنے